7

ملک بھر میں میں 40 فیصد بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں

پاکستان نیشنل نیوٹریشن کوارڈی نیشن کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اسٹنٹنگ ( اپنی عمر سے کم وزن اور قد والے بچے) جیسے اہم مسئلے کو ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، اسٹنٹنگ کی وجہ سے ہمارے بچوں کہ ذہنی و جسمانی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا اسٹنٹنگ سے معاشرہ ان کی تعمیری صلاحیتوں سے محروم ہو جاتا ہے، اس مسئلے سے متعلق روڈ میپ مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش کیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی غذائی ضروریات کے حوالے سے منصوبہ بندی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اسٹنٹنگ کے حوالے سے بنیادی کردار ادا کرنے کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ احساس نشوونما ڈیش بورڈ آج سے ملک بھر میں کام شروع کردے گا۔ ڈیش بورڈ تمام متعلقین کو اسٹنٹنگ کے بارے میں مفصل ڈیٹا میسر آئے گا،۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال مارچ میں عالمی بینک نے ’پاکستان کے سو سال اور مستقبل کے خاکے‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں پاکستان کو انسانی زندگیوں میں سرمایہ کا مشورہ کا دیا گیا تھا۔

عالمی بینک کے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان میں اپنی عمر سے کم وزن اور قد والے بچوں کی شرح میں کمی آئی ہے  لیکن اس کے باوجود یہ دنیا میں اسٹنٹڈ بچوں کی سب سے زیادہ شرح ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسٹنٹنگ سے لوگوں کی قابلیتوں پر ناقابل تلافی اثرات مرتب ہوتے ہیں، آج کی سٹنٹنگ پاکستان کے مستقبل کی افرادی قوت کو کئی دہائیوں تک متاثر کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق اسٹنٹنگ صرف صحت اور نیوٹرشن کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی مسئلہ بھی ہے جس کا تعلق پیداوار سے ہے، کوئی بچہ اسٹنٹ ہے تو اس کے لیے سیکھنا، قابلیتوں کو قبول کرنا اور نشوونما پانا مشکل ہوجاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسٹنٹنگ کے منفی اثرات کا تخمینہ جی ڈی پی کا 2 سے 3 فیصد ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 2047 میں 100 سال کا ہوجائے گا۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں