17

نوازشریف پر غداری کا مقدمہ درج کرانے والا پی ٹی آئی کا کارکن ہے، عظمیٰ بخاری

ن لیگی رہنما نے کہا کہ وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب کو کہہ کر ایف آئی آر درج کروائی۔

ن لیگی رہنما میاں جاوید لطیف نے بھی ہم نیوز کے پروگرام’صبح سے آگے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس شخص نے مقدمہ درج کیا وہ بلدیاتی انتخابات کا ٹکٹ ہولڈر تھا۔ آپ کو علم نہیں کہ مقدمہ کس نے درج کیا تو یہ حکومت کی نا اہلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی وزرا ہر آئے روز پریس کانفرنسز میں ہمیں غدار ٹھہراتے ہیں لیکن ان کو شائد معلوم نہیں کہ بغاوت کا مقدمہ ہمارے خلاف بن ہی نہیں سکتا۔

دوسری جانب گورنر ہاؤس پنجاب نے (ن) لیگ قائدین کے خلاف مقدمہ کے مدعی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان گورنر ہاؤس نے اپنے بیان میں کہا کہ بغاوت کے مقدمہ کے مدعی کا گورنر پنجاب سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ پنجاب بھر سے ہزاروں افراد گورنر پنجاب سے ملاقات کرتے ہیں۔ ملاقات کے لیے آنے والوں کا تصاویر بنانا معمول کی بات ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم نوازشریف سمیت مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف بغاوت کا مقدمہ لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں مجموعی طور پر 12 مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں جن میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 120، 120 اے، 120 بی، 121، 121 اے (ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانا)، 123 اے، 124، 124 اے (غداری)، 153، 153 اے، 505 اور سائبر کرائم ایکٹ پیکا کی دفعہ دس شامل ہے۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا ہے کہ ’نواز شریف پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں سے مجرم قرار پائے ہیں اور انھوں نے گذشتہ ماہ 20 ستمبر کو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس اور یکم اکتوبر کو اپنی پارٹی کے اجلاس میں کی گئی تقاریر میں نہ صرف ملکی اداروں کو بدنام کیا ہے بلکہ عوام کو بغاوت پر اکسایا بھی ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں