12

گلوکار مسعود رانا کو مداحوں سے بچھڑے 25 برس بیت گئے

پاکستان کے معروف گلوکار مسعود رانا نے اردو اور پنجابی میں ساڑھے پانچ سو سے زائد گیت گائے، اُن کی آواز کا سحر آج بھی برقرار ہے۔ انہیں پاکستانی محمد رفیع بھی کہا جاتا ہے۔

مسعود رانا پلے بیک گلوکار تھے جنہوں نے اپنی گلوکاری سے مداحوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔

مسعود رانا نے اپنی گلوکاری کے کیریئر کا آغاز 1962 میں فلم انقلاب سے کیا اور تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ تک اردو اور پنجابی دونوں فلموں میں ٹاپ مرد گلوکاروں میں شامل ہوگئے۔

مسعود رانا نے مشہور فلموں ’آئینہ‘، ’دل میرا دھڑکن تیری‘، ’خواب اور زندگی‘، ’چراغ کہاں روشنی کہاں‘، ’ہمراہی‘، ’بدنام‘، ’چاند اورچاندنی‘ سمیت دیگر فلموں میں نغمہ سرائی سے پذیرائی حاصل کی۔

واضح رہے گلوکار نے سب سے زیادہ تعداد میں فلموں میں گا کر مداحوں کو سرور سے بھرے گیت دیے اور 1995 میں اپنی وفات تک فلموں میں بہت مصروف رہے۔

مسعود رانا 4 اکتوبر 1995 کو اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے لیکن ان کے گانے آج بھی زبان زدعام ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں