16

شہباز تتلہ قتل کیس، ملزمان پر فرد جرم عائد

نمائندہ ہم نیوز کے مطابق لاہور کی مقامی عدالت میں شہباز تتلہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے 12 اکتوبر کو گواہان کو طلب کر لیا۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر ساجد سعید بھٹی نے کیس میں دلائل دیے۔ ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ تھانہ نصیر آباد میں درج ہے۔

خیال رہے کہ شہباز تتلہ کے اغوا کا مقدمہ تھانہ نصیرآباد میں رواں سال 7 فروری کو درج کیا گیا تھا۔

ایس ایس پی مفخر عدیل 12 فروری 2020 سے لاپتہ تھے۔ 10 مارچ کو پنجاب پولیس  نے ایس ایس پی مفخرعدیل کو گلگت سے حراست میں لے کر لاہور منتقل کیا تھا۔ وہ پنجاب پولیس کو شہباز تتلہ کے اغوا اور مبینہ قتل میں پولیس کو مطلوب تھے۔

اس سے قبل ملزم مفخرعدیل نے شہباز تتلہ کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ ملزم نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے قتل کے بعد لاش کوتلف کردیا۔

گزشتہ ماہ نصیر آباد پولیس نے سابق اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب شہباز تتلہ قتل کیس کی تفتیش مکمل کر کے چالان سیشن کورٹ لاہور میں جمع کرایا تھا۔ جس کے مطابق سابق ایس ایس پی مفخر عدیل نے اسد بھٹی کے ساتھ مل کر شہباز تتلہ کو قتل کیا۔

عدالت میں جمع کرائے گئے چالان کے مطابق مفخر عدیل اور اسد بھٹی نے شہباز تتلہ کو کلمہ چوک سے سرکاری جیپ میں اغوا کیا۔ مفخر عدیل نے کولڈ ڈرنک میں نشہ آور چیز ملا کر شہباز تتلہ کو پلاٸی جس سے وہ بے ہوش ہو گیا تھا۔

چالان میں بتایا گیا تھا کہ مفخر عدیل نے شہباز تتلہ کے منہ اور ناک پر ٹیپ لگاٸی اور اسٹور روم میں لے جا کر مقتول کے منہ پر تکیہ رکھ کر بیٹھ گیا۔ سانسیں بند ہونے سے شہباز دم توڑ گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں