19

نو ماہ کے دوران 34 حاملہ خواتین میں ایڈز کی تشخیص

پی ڈی ایڈز کنٹرول پروگرام ڈاکٹر ثاقب کے مطابق سندھ کے اضلاع قمبر، شہدادکوٹ، کشمور اور شکارپور سے بھی مریضوں کو شیخ زید ویمن اسپتال لایا گیا۔

ذرائع سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق اسپتال کے ایچ آئی وی بچاو سنٹر میں سہولیات کا فقدان ہے۔ شیخ زید اسپتال میں حاملہ خواتین کے آپریشن اور ڈلیوری کے دوران حفاظتی سامان تک نہیں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کو سالانہ بجٹ 60 کروڑ روپے جاری ہونے کے باوجود اسپتال میں سہولیات نہیں ہیں۔

ہم نیوز کے گزشتہ سال کی ایک رپورٹ کے مطابق سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں ایڈز کے مریض اور ان کے اہلخانہ کو خاموش سماجی بائیکاٹ کا سامنا ہے اور انہیں الگ گاؤں بسانے پر’ مجبور‘ کیا جاتا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق تحصیل رتوڈیرو کے گاؤں سبحانی خان کے متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کو سماجی بائیکاٹ یا گاؤں بدری میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔

ہم نیوز کے گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق اس گاؤں میں 28 ایسے خاندان ہیں جنہیں شدید سماجی بائیکاٹ اور ہمسائیوں کی جانب سے ہتک امیز رویے کا سامنا ہے۔ متاثرین میں بچے، بزرگ اور خواتین شامل ہیں جس میں سب سے زیادہ تعداد معصوم بچوں کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اہلہ محلہ نے اپنے بچوں کو ان خاندانوں کے ایڈز سے متاثرہ بچوں کیساتھ کھیلنے کودنے اور اٹھنے بیٹھنے سے بھی منع کر دیا ہے۔

رتوڈیرو کے علاقے سبحانی خان شیر میں ایڈز کے متاثرہ افراد کے خاندانوں سے اچھوتوں جیسا رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ ہم نیوز کی اطلاع کے مطابق سماجی بائیکاٹ اور دباؤ کے سبب کچھ خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت بھی کر گئے ہیں۔

ایک وڈیرے نے متاثرہ خاندانوں کو الگ گاؤں بسانے کیلیے زمین دینے کی پیشکش بھی کی تاکہ دیگر لوگ ایڈز سے متاثر نہ ہوں۔

بائیکاٹ کا سامنا کرنے والے شہزادو خان شر نے بتایا تھا کہ انہیں وڈیروں اور دیگر افراد نے علاقہ چھوڑنے کا کہا جس سے پریشانی اور تکلیف ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تین چار خاندان گاؤں چھوڑ کر جاچکے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق صرف رتو ڈیرو میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن میں 536 بچے  بھی شامل ہیں۔ 155 لڑکیاں اور 53 لڑکے اور328 معصوم بچوں میں ایڈز کی تشیخص ہوئی۔

علاج کی سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین نے کہا تھا کہ ان کو مکمل ادویات میسر نہیں ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ تو کیے جاتے ہیں لیکن ان کی رپورٹ فی الحال نہیں آئی اور لوگ کم علمی کے سبب دوبارہ چیک اپ بھی نہیں کراتے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں