17

حکومت نے اپوزیشن اتحاد کو جلسوں کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کے اجلاس میں حکومتی اراکان نے تجویز دی کہ اپوزیشن کو جلسے کرنے کی اجازت دی جائے۔ اپوزیشن ملک بھر میں جہاں جلسہ کرنا چاہے، اجازت دی جائے۔

ذرائع کے مطابق حکومتی اراکین اور مشیران نے تجویز دی کہ اپوزیشن کو جلسوں میں کورونا ایس او پیز کا پابند بنایا جائے۔ ضلعی انتظامیہ جلسوں میں ایس او پیز کی پابندی یقینی بنائے۔

خیال رہے کہ پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ پنجاب کے ضلع کوجرانوالہ میں 16اکتوبر کو ہوگا۔ تاہم ضلعی انتظامیہ نے جلسے کے لیے اجازت نامہ جاری نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن نے 20 ستمبر کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں فیصلہ کیا تھا کہ اکتوبر اور نومبر میں صوبائی دارالحکومتوں سمیت بڑے شہروں میں جلسے کیے جائیں گے جب کہ دسمبر میں ملک گیر ریلیاں اور مظاہرے ہوں گے۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما راناثنا اللہ نے کہا ہے کہ ہم جلسوں کے بعد ریلیوں کی طرف جائیں گے اور جب پی ڈی ایم کی قیادت مناسب سمجھے کی استعفے بھی  دیں گے۔

لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 16اکتوبرکو نا اہل حکومت کے خلاف ریفرینڈم ہوگا لیکن اس سے پہلے ہی سیاسی کارکنوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف بےبنیاد مقدمہ درج کیا گیا ہے اور یہ  16اکتوبر کے جلسے پر اثر اندا ز ہونے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ حکومت سے تنگ آچکے ہیں۔ مقدمات سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو مصروف رکھنے کی سازش ہے۔

راناثنا اللہ نے کہا کہ جب قیادت کو صحیح لگے گا تو استعفے بھی دیئے جائیں گے۔ پی ڈی ایم کے جلسے سے مولانا فضل الرحمان ،مریم نواز اور بلاول بھٹو خطاب کریں گے۔ اگر حکومت نے کریک ڈاؤن کیا تو ہمارا بیانیہ سچ ثابت ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک وزیر نے اپوزیشن جماعتوں کوتجویز دی کہ آئندہ سال تک جلسوں کو موخر کردیں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں