17

قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی ہنگامہ آرائی، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن اراکین نےایوان میں سیٹیاں بجانا شروع کردیں اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اڑا دیں۔ اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھراؤ کیا۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کہا کہ سیٹیاں نہ ماریں، اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں اور  اپنی باری کا انتظار کریں اور سماجی فاصلے کا خیال رکھیں۔ ماسک پہنیں اوراحتیاط کریں۔ 

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان رولز کے مطابق چلاوَں گا۔ اپوزیشن ارکان آئین اور قانون کے مطابق ایوان چلنے دیں۔

اپوزیشن ارکان نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے دی جائے۔

قومی اسمبلی اجلاس اجلاس میں کھیلوں میں میچ فکسنگ کرنے والوں کو سزا دینے کا بل پیش کیا گیا۔ بل متحدہ قومی مومنٹ کے رکن اقبال محمدعلی نے پیش کیا۔ بل کی منظوری کےبعد میچ فکسنگ کرنے والوں کو 10 سال قید 10 کروڑ تک جرمانہ کیا جاسکے گا۔ کھیلوں میں میچ فکسنگ روکنےکے لیے تحقیقاتی ایجنسی قائم کی جائے گی۔

قومی اسمبلی میں پیش گیا گیا وکلا اور بارکونسلز ترمیمی بل 2020 پیش کیا گیا۔ بل متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ قومی اسمبلی اجلاس میں دماغی صحت ترمیمی بل 2020 پیش کیا گیا۔ بل متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے پیش کیا گیا قومی احتساب ترمیمی بل 2020 خصوصی عدالتیں ترمیمی بل پر بحت کو موخر کردیا گیا۔

آئندہ انتخابات میں ووٹنگ بائیومیٹرک کےذریعےکرنےکابل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ بل پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسلم خان نے پیش کیا۔ اجلاس میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 26 الف میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا۔

قومی اسمبلی نے اسلام آباد فوڈ سیفٹی بل 2020 منظور کرلیا۔ بل حکومتی رکن اسمبلی علی نوازاعوان نے پیش کیا۔ اپوزیشن ممبران کے 22 بل موخر کر دیے گئے۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ جاری ہے۔ اپوزیشن ارکان نے ایک بھی تازہ بل پیش نہیں کیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں