14

ویتنام میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچادی، 100 سے زائد افراد ہلاک

ریڈ کراس نے بھی خبردار کیا ہے کسی بھی سنگین انسانی بحران سے بچنے کے لیے لاکھوں افراد کو شیلٹر، پینے کا صاف پانی اور خوراک کی اشد ضرورت ہے۔

صدر ویتنام ریڈ کراس سوسائٹی کا کہنا ہے کہ  ایسا تباہ کن سیلاب ملکی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔ سیلاب سے لاکھوں افراد غربت کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں۔

انۃوں نے کہا کہ اب تک پانچ کروڑ روپے سے زائد کی رقم متاثر کی مدد کے لیے فراہم کی گئی ہے۔ سیلاب سے ایک لاکھ 78 ہزار گھر متاثر ہوئے ہیں اور فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ جولائی میں نیپال میں بارشوں اور سیلاب سے 132 افراد ہلاک اور 128 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نیپال میں طوفانی بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی تھی۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کے علاوہ 53 افراد لاپتہ بھی ہو گئے تھے۔

جولائی میں بھارت میں بھی مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی تھی اور لاکھوں افراد بے گھر اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی تھیں۔

بھارتی ریاستوں آسام، بہار اور تری پورہ میں مون سون کی بارشوں کی وجہ سے رہائشی علاقے کئی کئی فٹ پانی میں ڈوب گئے تھے۔

مون سون بارشوں اور طوفان کے نتیجے میں  بنگلا دیش، بھارت اور نیپال میں مجموعی طور پر 221 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں شدید بارشوں اور سیلاب  سے 79 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔

شمال مشرقی ریاست آسام میں سیلاب نے 10 لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا تھا جبکہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے سینکڑوں گھر تباہ اور ہزاروں ایکڑ اراضی کو شدید نقصان پہنچا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں