21

بلوچ طلبہ کا لاہور میں دھرنا، لیگی رہنماوں کی شرکت

بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کے بینر تلے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی میں کوٹہ اور سکالر شپ کے خاتمے کے خلاف پیدل مارچ کرتے ہوئے لاہور پہنچ گئے اور فیصل چوک پر احتجاجی دھرنا دیا۔ بلوچ طلابہ نے مطالبات کے حق میں بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے ہیں۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم اظہر بلوچ کا کہنا ہے کہ ملتان میں چالیس دن احتجاج کیا لیکن کسی نے بات نہ سنی، مجبور ہو کر لاہور کا رخ کیا۔ کیا یہ مسائل بلوچ طلبہ کیلئے ہی ہیں؟

بلوچ طلبہ سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان مسلم لیگ نواز کی خواتین رہنما عظمی بخاری، شائستہ پرویز ملک اور کرن ڈار احتجاج میں شریک ہوئیں۔

عظمی بخاری نے میڈیا سے گفتگو میں حکومت پنجاب کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بچوں کو جامعہ سے نکالنا ناقبل برداشت ہے۔ کسی کو تعلیم پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔

عظمی بخاری نے کہا کہ ریمورٹ کنٹرول وٹس ایپ وزیر اعلیٰ بن کر خود مسائل کے پہاڑ بن گئے ہیں، سموسوں پر سو موٹو ہو سکتا تو طلبہ پر کیوں نہیں؟

ملتان سے بارہ روز کا پیدل سفر کر کے لاہور پہنچنے والے طلبہ کا کہنا ہے اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں