22

کک باکسنگ: قومی چیمپئن نثار احمد خان کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

زندگی کی گاڑی کا پیہہ چلانے کے لیے نثار دن میں ہوٹل پر کام کرتا ہے تو شام میں رنگ میں آکر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتا ہے۔

رنگ میں بے خوف لڑنے والا نثار احمد خان زندگی کی جنگ بھی دلیری سے لڑ رہا ہے۔19 سالہ نثار احمد خان کک باکسنگ  ویلٹر ویٹ 52 کلو کیٹیگری میں قومی چیمپئن ہونے کے باوجود کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر  مجبور ہے۔

جن ہاتھوں نے ان گنت میڈلز اور سرٹیفیکیٹ سمیٹے انہی ہاتھوں سے چائے کے کپ  لینے والے لوگ اس ساری کہانی سے ناآشنا ہیں۔ نثار دن بھر ہوٹل پر کام کے بعد شام کو کک باکسنگ اور باکسنگ کی ٹریننگ کرتا ہے۔

نثار احمد خان 8 سال پہلے اپنے بھائیوں کے ہمراہ کوئٹہ سے روزگار کی تلاش میں کراچی آیا تھا۔ مارشل آرٹس سے لگاؤ اسے کک باکسنگ اور پھر باکسنگ کی طرف لے گیا۔

چھوٹی سی عمر سے کی جانے والی انتھک محنت اور جنون نے نثار احمد خان کو نیشنل چیمپئن بنا دیا۔

نثار احمد کا ٹیلنٹ دیکھ کر انٹرنیشنل باکسرعامر خان نے  اسے 19 دسمبر کو باکسنگ مقابلےمیں شرکت کے لیے لاہور بلوا لیا۔

نثار احمد عالمی سطح پر قومی  پرچم سربلند کرنے کا خواہشمند ہے جس کے لیے اسے حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں