19

شرح مبادلہ میں استحکام سے اسٹیٹ بینک  کا خسارہ منافع میں تبدیل

جاری اعلامیہ کے مطابق اسٹیٹ بینک  نے  20-2019 کی مالی کارکردگی رپورٹ  جاری کردی ہے۔ مرکزی بینک کو رواں مالی سال میں 1163 ارب 43 کروڑ روپے سے زائد کا منافع ہوا۔

اعلامیہ کے مطابق  مالی سال 19-2018 میں بینک کو ایک ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔غیرملکی کرنسی میں اثاثوں پر 66 ارب 40 کروڑ روپے کا ایکس چینج گین ریکارڈ منافع کی اہم وجہ ہے۔

جاری اعلامیہ کے مطابق مالی سال 19-2018 میں  فارن کرنسی اثاثوں  پر پانچ سو چھ  ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسٹیٹ بینک کی سودی آمدن میں بھی پانچ سو باسٹھ  ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

اسی طرح مالی سال 20-2019 میں   بینک  کی خالص سودی آمدن 12 سو آٹھ  ارب روپے رہی۔ مالی سال 19-2018 میں  سودی آمدن چھ سو 46 ارب روپے رہی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں 5 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ایک ہفتے میں مرکزی بینک کے ذخائرمیں 5 کروڑ 50 لاکھ  ڈالر کا اضافہ ہوا۔ مرکزی بینک کے ذخائر 23 اکتوبر تک بڑھ  کر 12 ارب 12 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئے۔

اعلامیہ کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس7 ارب 17 کروڑ ڈالرموجود ہیں۔ مجموعی ذخائر بڑھ کر 19 ارب 26 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئے۔

مرکزی بینک نے مالی سال 2019-20 کی سالانہ کارکردگی جائزہ رپورٹ بھی جاری کردی۔ سالانہ کارکردگی جائزہ 30 جون 2020 کو ختم ہونے والے سال کے مالی گوشوارے بھی جاری کردیے گئے۔

اسٹیٹ بینک نے آڈیٹر کی رپورٹ سمیت سالانہ کارکردگی جائزہ عوام کے ملاحظے کے لیے جاری کردی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں