19

امریکہ میں ’سوئنگ اسٹیٹس‘ کیا ہیں؟

ان ریاستوں سے کبھی ڈیمو کریٹس اور کبھی ری پبلکن جماعت کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں۔

سوئنگ اسٹیٹس میں دونوں جماعتیں اپنی اپنی انتخابی مہم کے لیے سرتوڑ کوششیں کرتی ہیں۔ سوئنگ اسٹیٹس کا تعین سابقہ الیکشن میں مارجن کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

جن ریاستوں میں جیتنے اور ہارنے والے امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوتا ہے وہ سوئنگ اسٹیٹس تصور کی جاتی ہیں۔

2016 کے صدارتی انتخاب سے قبل انتخابی نتائج کی بنیاد پر 13 ایسی ریاستیں تھیں جنہیں سوئنگ اسٹیٹس قرار دیا گیا تھا۔

تیرہ انتہائی مسابقتی ریاستوں میں وسکونسن، پنسلوینیہ، نیو ہیمپشائر، مینیسوٹا اور ایریزونا شامل تھیں۔ جارجیا، ورجینیا، فلوریڈا، مشی گن، شمالی کیرولینا، مائن، نیواڈا اور کولوراڈو کو بھی سوئنگ اسٹیٹس قرار دیا گیا۔

امریکہ کے 2016 کے صدارتی انتخابی نتائج کی بنیاد پر 2020 کے صدارتی انتخابات میں مائن، نیواڈا، مینسوٹا، نیو ہیمپشائر میں کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔

مشی گن، پنسلوینیہ اور وسکونسن میں بھی جو بائیڈن یا ڈونلڈ ٹرمپ میں سے کوئی بھی میدان مار سکتا ہے، فلوریڈا، ایریزونا، شمالی کیرولینا اور جارجیا میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں