18

کان کا میل، ڈپریشن کا ٹیسٹ بن سکتا ہے

اس آلے کے ذریعے کان کے میل میں کارٹیسول ہارمون کی شناخت کرکے دماغی تناؤ اور ڈپریشن کو ناپا جاسکتا ہے۔ فوٹو: میڈیکل ایکسپریس

اس آلے کے ذریعے کان کے میل میں کارٹیسول ہارمون کی شناخت کرکے دماغی تناؤ اور ڈپریشن کو ناپا جاسکتا ہے۔ فوٹو: میڈیکل ایکسپریس

 لندن: وہ دن دور نہیں جب کان کے میل جیسی شے کو ذہنی تناؤ اور ڈپریشن میں کلیدی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا جسم ڈپریشن کی صورت میں ایک ہارمون ’کارٹیسول‘ خارج کرتا ہے اور یہ کارٹیسول کان کے میل میں جمع ہوکر ہمیں مرض کی شدت سے آگاہ کرسکتا ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس طرح ذہنی دباؤ اور اس سے وابستہ امراض کو شناخت کرنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کی اہمیت یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ کان کے میل کو دیکھ کر ذیابیطس اور کووڈ 19 کے خلاف اینٹی باڈیز کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کی بڑی مقدار کان کے میل میں جمع ہوتی رہتی ہے۔

سائنسداں پرامید ہیں کہ اس طرح کسی ماہر کی نگرانی کے بغیر بھی کان کے میل کا ٹیسٹ گھر بیٹھے انجام دیا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن میں اعصابی علوم کے ماہر ڈاکٹر اینڈرس ہیران وائیوز اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ ہے اگرچہ کارٹیسول کے لیے خون، تھوک اور پیشاب کے ٹیسٹ عام ہیں لیکن ان سے تھوڑے وقفے کے لیے ڈپریشن کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ کان کا ٹٰیسٹ بہت آسان ہے اور کوئی بھی اسے آسانی سے انجام دے سکتا ہے۔

اگرچہ ابھی وسیع پیمانے پر انسانی آزمائش کی ضرورت ہے لیکن اس سے کارٹیسول اور ڈپریشن کی پیمائش میں انقلاب آجائے گا اور اس سے کروڑوں افراد میں مرض کی تشخیص اور بہتر علاج میں مدد ملے گی۔ خون اور تھوک وغیرہ میں کارٹیسول کی سطح کم یا زیادہ ہوسکتی ہے لیکن کان کے میل میں ان کی مقدار برقرار رہتی ہے اور یوں کم خرچ طریقے سے تناؤ کا درجہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر ہیران نے ایک آلہ بھی بنایا ہے جو کان صاف کرنے والی روئی لگی تیلی جیسا ہے۔ لیکن اس میں ایک رکاوٹ ہے جو آلے کو کان میں مزید اندر تک جانے نہیں دیتی۔ اس کے کنارے پر نامیاتی محلول ہے جو کان سے نمونے لیتا ہے۔

اس کے بعد جرمنی، برطانیہ اور چلی میں اسے آزمایا گیا اور 37 مطالعات کئے گئے۔ اس دوران بال اور خون کے ڈپریشن ٹیسٹ بھی جمع کئے گئے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ان دونوں کے مقابلے میں کارٹیسول کی بڑی مقدار کان میں ہی موجود ہوتی ہے۔ اس طرح یہ کم خرچ طریقہ ڈپریشن کی شناخت اور علاج میں انقلابی تبدیلی کی وجہ بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں