22

پاکستان میں ملیریا پھیلانے والے مچھر کی جینیاتی انجینئرنگ

امریکی ماہرین نے پاکستان میں ملیریا کی وجہ بننے والے مچھراینوفیلس اسٹفینسائی میں جینیاتی تبدیلی کرکے مرض سے پاک کیا ہے۔ فوٹو: فائل

امریکی ماہرین نے پاکستان میں ملیریا کی وجہ بننے والے مچھراینوفیلس اسٹفینسائی میں جینیاتی تبدیلی کرکے مرض سے پاک کیا ہے۔ فوٹو: فائل

برکلے، کیلیفورنیا:  امریکی ماہرین نے ایک ایسے مچھر کو جینیاتی انجینیئرنگ سے گزارا ہے جو پاک و ہند میں ملیریا پھیلاتا ہے۔ مچھر کو جدید ترین کرسپر سی اے ایس 9 ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیل کیا گیا جس کے بعد وہ مرض پھیلانے کے قابل نہیں رہتے۔

ماضی میں بڑے پیمانے پر جینیاتی انجینیئرنگ کے ذریعے مچھروں کی نسل کشی اور بیماری پھیلانے کی صلاحیت روکی گئی ہے تاہم اس مرتبہ کرسپر سی اے ایس 9 کی بدولت پاکستان اور ہندوستان میں ملیریا کی وجہ بننے والے مشہور مچھر اینوفیلس اسٹیفنسائی کے کروموسوم میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس کے بعد وہ ملیریا کی وجہ بننے والے طفییلیے کو مزید پھیلانے سے قاصر رہتے ہیں۔

اس عمل کو ’آبادی میں تبدیلی‘ یا پاپولیشن‘ موڈی فکیشن بھی کہاجاتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے، یوسی ایل اِرون، اور یوسی ایل سان دیاگو کے ماہرین نے ایسے جینیاتی مچھر بنائے ہیں جو ملیریا نہیں پھیلاسکتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے جیسے مادہ مچھر مزید انڈے دیتی ہے تو اگلی نسلوں میں بھی ملیریا پھیلانے کے صلاحیت مزید مضبوط ہوتی جاتی ہے۔

اس تحقیق کے مرکزی سائنسداں پروفیسر اینتھونی جیمز کہتے ہیں کہ ’سیکنڈ جنریشن جین ڈرائیو سسٹم‘ میں بہت سے جین دیکھے گئے ہیں جنہیں سلا کر مچھروں کی نسل خیزی اور مرض بڑھانے کی صلاحیت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عین اسی طریقے سے حشرات کو بدل کر لیشمینیا، سلیپنگ ڈیزیز اور دیگر امراض کو قابو کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی پاکستان اور ہندوستان میں ملیریا کی بڑی وجہ بننے والے ایک مچھر اینوفیلس اسٹفینسائی کو مرض سے پاک کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ تاہم نر مچھروں میں ان کی افادیت دیکھی گئی اور اگلی نسل تک اس کا پھیلاؤ 99 فیصد تک دیکھا گیا لیکن مادہ میں کم تھا۔

اس کمی کو دور کرنے کے لیے مزید تحقیق کی گئی اور اس میں کامیابی ملی۔ یعنی مادہ مچھر نے بیماری نہ پھیلانے والے خواص اگلی نسلوں میں بھی منتقل کئے ۔ سائنسداں پر امید ہیں کہ بہت جلد اسے ماحول میں موجود مچھروں پر آزمایا جائے گا کیونکہ اب یہ ٹیکنالوجی عملی آزمائش کے لیے تیار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں