13

کرتاپور راہداری کو ایک سال مکمل

ایک سال مکمل ہونے پر خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی جس میں سکھ یاتریوں سمیت تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔ تقریب میں ایک ہزار سے زائد سکھ یاتریوں کی شرکت متوقع ہے۔

سکھوں کے لیے مقدس مقام گوردوارہ کرتارپور ضلع نارروال میں واقع ہے۔ اس مقام پرسکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔

ممبر پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک سردار اندر جیت سنگھ نے کرتار پور راہداری کے ایک سال مکمل ہونے پر بیان جاری کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کرتارپور راہداری حکومت پاکستان کا سکھوں کے لیے تحفہ ہے۔

پاکستان نے گوردوارہ کی تعمیر9نومبر 2019 میں مکمل کی۔ عظیم الشان سفید عمارت پاکستان میں تمام مذاہب کو حاصل آزادی کی عکاس ہے۔

گزشتہ برس افتتاحی تقریب میں بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، نوجوت سنگھ سدھو اور اداکار سنی دیول سمیت بڑی تعداد میں سکھ یاتریوں نے شرکت کی تھی۔

پاکستان کا آئین قرآن و سنت کے احکامات کی روشنی میں تمام اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت پاکستان نے سکھ کمیونٹی کو کرتارپورہ راہداری کی شکل سہولیات فراہم کیں۔ تاکہ دنیا بھر میں مقیم سکھ پاکستان آ کر اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کر سکیں۔

دوسری طرف نام نہاد جمہوریت بھارت میں پاکستان کے برعکس سکھوں پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں۔ نچلی ذات کے ہندووں سمیت دیگر اقلییتں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی فاشسٹ حکومت کی زیادتیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں