12

کلبھوشن یادیو کیس، بھارت تحفظات پر رجوع کر سکتا ہے، عدالت

اسلام آبادہائی کورٹ میں کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کی حکومت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا بھارتی سفارت خانے کے تحفظات ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت جان بوجھ کرعدالتی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کر رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے ہمیں معاونت چاہیے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت وکیل کے ذریعے اس عدالتی کارروائی کا حصہ بن سکتا ہے جبکہ بھارت کہتا ہے کہ اگر ہم نے وکالت نامہ جمع کرایا تو وہ ہماری خودمختاری کے خلاف ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر بھارت کو کوئی تحفظات ہیں تو اس عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت اگر تیسری بار قونصلر رسائی چاہتا ہے تو پاکستان وہ بھی دینے کے لیے تیار ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو ہدایات لینے کے لیے کتنا وقت چاہیے ؟

بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل نے ہدایات لینے کے لیے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے کا وقت دیں ہدایات لے لوں گا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو 2 ہفتوں کا وقت دے دیتے ہیں اور اس وقت کے دوران آپ بھارت کو قونصلر رسائی کے حوالے سے بھی آگاہ کر دیں۔ جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2018 کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جو بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر اور ”را“ کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔

کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پر حکومت پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کر کے انڈین جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔ اس کے بعد کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔

کلبھوشن کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد اپریل 2018 میں اس کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں