23

پاکستان میں کورونا ٹیسٹ کے لیے تھری ڈی پرنٹڈ ’’سواب‘‘ تیار

تصویر میں تھری ڈی پرنٹر سے چھاپہ گیا سواب نمایاں ہے جو آغا خان یونیورسٹی میں تیار کیا گیا ہے۔ فوٹو: آغاخان یونیورسٹی ویب سائٹ

تصویر میں تھری ڈی پرنٹر سے چھاپہ گیا سواب نمایاں ہے جو آغا خان یونیورسٹی میں تیار کیا گیا ہے۔ فوٹو: آغاخان یونیورسٹی ویب سائٹ

 کراچی: کووڈ 19 کی عالمی وبا کے باعث دنیا بھر میں تشخیصی ٹیسٹ کے لیے درکار اشیا اور اجزا کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں آغا خان یونیورسٹی ( اے کے یو) نے اب تھری ڈی (سہ جہتی) نہ صرف ناک سے نمونے جمع کرنے والا سواب تیار کیا ہے بلکہ اس کا کامیاب معالجاتی تجربہ بھی کیا جاچکا ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے مطابق پاکستان  کووڈ 19 کے ٹیسٹ کے لیے ناک میں داخل کرنے والا سواب (پھایا) تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ کووڈ 19 کے نمونے حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ جیسے جیسے دنیا بھر کے ممالک ٹیسٹنگ کی سہولیات میں اضافہ کر رہے ہیں، ناک میں داخل کرنے کے لیے سواب کی ضرورت بڑھ رہی ہے، پاکستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں رہی اور اسے کووڈ-19 ٹیسٹنگ کے لیے بڑے پیمانے پر  سواب درآمد کرنے پڑ رہے تھے۔

اس برس ماہ اپریل سے مئی تک ان اشیا کی طلب میں بے پناہ اضافہ اور رسد میں کمی واقع ہوئی جس کی بنا پر اے کے یو کی انوویشن لیب نے مسئلے کے حل کی تلاش شروع کی اور اس کے لیے مقامی طور پر سواب کا ڈیزائن تشکیل دیا اور اسے تیار کیا۔

محققین ، کلینیکل لیبارٹری کے ماہرین اور بائیو میڈیکل انجینئرز پر مشتمل ایک ٹیم نے بنیادی نمونہ تیار کرنے کے لیے تھری ڈی پرنٹر استعمال کرتے ہوئے ڈیزائن تشکیل دیا، اس بنیادی نمونے کے ساتھ کیے جانے والے معالجاتی آزمائشی مطالعوں سے ثابت ہوتا ہے کہ تھری ڈی پرنٹڈ سواب محفوظ، موثر ہے اور درآمد کیے جانے والے سواب کی مانند استعمال میں آسان بھی ہے۔

اے کے یو کے ٹیکنالوجی انوویشن سپورٹ سینٹر اور ڈیجیٹل ہیلتھ ریسورس سینٹر کے ڈائریکٹر سلیم سیانی نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پرنٹر ایک دن میں 1,000 سے زائد سواب تیار کر سکتا ہے اور اس کی قیمت درآمد شدہ سواب کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اے کے یو میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر عدیل حیدر نے بتایا کہ تھری ڈی پرنٹڈ سواب کی تیاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس عالمی وبا کے دوران ہمارے ماہرین مقامی طور پر جدت طرازی کے ذریعے مقامی مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اے کے یو کے ڈیپارٹمنٹ آف پیتھالوجی اینڈ لیبارٹری میڈیسن کی پروفیسر زہرہ حسن اس پراجیکٹ کی معاون بنیادی تفتیش کار ہیں، انہوں نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تھری ڈی پرنٹڈ سواب ناک کی رطوبت کا نمونہ لینے کے لیے درآمد کیے جانے والے سواب کی ضرورت کو کم کرے گا اور پاکستان بھر میں کووڈ 19 کی تشخیصی صلاحیت میں اضافے میں معاون ثابت ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں