27

جاوید منزل آج بھی علامہ اقبال کی یادگاروں سے مزین

سفید رنگ میں رنگی جاوید منزل میں داخل ہوں تو باغیچے میں نصب علامہ اقبال کا مجسمہ آنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔

علامہ اقبال نے جاوید منزل میں اپنی زندگی کے آخری تین سال گزارے۔ ان کے زیر استعمال سوٹ، شیروانی، عینک، گھڑی، مہر، ادویات، اور بستر کے علاوہ کرسی، صوفے اور میز بھی دیکھنے والوں کو اقبال کی زندگی میں جھانکنے کا موقع دیتی ہیں۔

جاوید منزل میں مفکر پاکستان کے زیر استعمال اشیاء، ہاتھ سے لکھا کلام اور ان کی زندگی سے جڑی چھوٹی بڑی اشیاء دیکھنے والوں کیلئے سجائی گئی ہیں۔

ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا کہ ہمیں یہاں آکر یہ پتہ چلتا تھا کہ علامہ اقبال نے اپنی زندگی کیسے گزاری۔

علامہ اقبال نے یہ عمارت اپنی اہلیہ سردار بیگم کی خواہش پر بنوائی اور بعد ازاں اسے اپنے بیٹے مرحوم جاوید اقبال کے نام کر دیا۔

شاعر مشرق کے پوتے منیب اقبال نے ہم نیوز سے گفتگو کے دوران بتایا کہ جاوید منزل میں علامہ اقبال کی سب چیزیں رکھی نہیں جاسکتیں۔ مییری خواہش ہے کہ اس گھر کے اسٹیمپ پیپر کو عجائب گھر کا حصہ بنایا جائے۔

جاوید منزل میں علامہ اقبال کی تعلیمی اسناد، ہاتھ سے لکھے شکوہ، جواب شکوہ کے نمونے اور دیگر منظوم اور نثری کلام کے اقتباس رکھے گئے ہیں۔

شاعر مشرق اب ہم میں موجود نہیں مگر جاوید منزل کے ہر کونے میں ان کی یاد آج بھی موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ اقبال کے چاہنے والے بھرپور محبت سے اس گھر کو دیکھنے آتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں