19

فوج سے بات ہو سکتی ہے لیکن عوام کے سامنے، چھپ کر نہیں، مریم نواز

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے پلیٹ فارم سے پاک فوج سےبات چیت پر غور کیا جا سکتا ہے۔ شرط یہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے قریبی ساتھیوں کے ذریعے رابطے کیے گئے ہیں۔ میرے ساتھ براہِ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا۔

ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ فوج میرا ادارہ ہے، ضرور بات ہوگی لیکن آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے۔

مریم نواز نے حکومت سے مذاکرات کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈائیلاگ تو عوام کے ساتھ ہو گا۔ انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کے معاملے پر جواب نہیں ملے بلکہ مزید سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

انہوں ن کہا کہ آئین کے مطابق عوامی ردعمل کا جواب دینا منتخب حکومت کا کام ہے۔ ان ہاؤس تبدیلی یا مائنس عمران خان؟جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ملک کو بحران سے نکالنے کیلئےعمران خان اور حکومت کو گھر جانا ہو گا۔ نئے شفاف انتخابات کروائے جائیں اور عوام کی نمائندہ حکومت آئے۔تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد انہیں معافی دینے کے مترادف ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے الحاق کا نہیں، احتساب کا وقت ہے۔ یہ خود چیزیں غائب کرتے ہیں اور مہنگائی کر کے مارکیٹ میں لے آتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں