20

ہال میں شادی پر پابندی، این سی او سی سے جواب طلب

اسلام آباد ہائی کورٹ میں این سی او سی کی طرف سے جاری شادی ہالز میں تقریبات پر پابندی کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی شادی میں کورونا پھیل جائے تو عدالت اس کی ذمہ داری نہیں لے سکتی۔ جج نے ریمارکس میں کہا کہ مارکیز سے متعلق حکومت کا دوہرا معیار کیوں ہے وضاحت کریں۔

حکومت سے یہ ضرور پوچھ لیتے ہیں کہ مارکیز کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں رکھا جا رہا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ مارکیز پر تو پابندی ہے لیکن حکومت خود بڑے بڑے جلسے کر رہی ہے۔

عدالت میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ حکومت پالیسی بنائے لیکن دس ہزار لوگوں کو بے روزگار تو نہ کریں۔ عدالت نے 18 نومبر تک جواب طلب کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے سینما، تھیٹرز اور مزارات فوری طور پر بند کر دیا ہے۔

این سی اور سی کی جانب سے مزارات کو بھی فوری بند کرنے اور ریسٹورنٹس پر رات 10 بجے تک باہر بیٹھ کر کھانا کھانے اور کھانا گھر لے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

این سی او سی کے مطابق مارکیزمیں شادی کی تقریب کےانعقاد کی اجازت نہیں ہے۔ شادی کی آؤٹ ڈورمیں کنوپی ٹینٹ کا استعمال بھی ممنوع ہے۔

آؤٹ ڈورشادی تقریب میں ایک ہزارمہمان شرکت کرسکیں گے اور شرکا کےمابین6فٹ کا فاصلہ رکھنا لازمی ہوگا۔

شادی کی تقریب کا میزبان کورونا ایس اوپیز پرعملدرآمدکا ذمہ دارہوگا۔ تقریب کا دورانیہ 2گھنٹے ہوگا اور رات 10بجے تقریب ختم کرنا ہوگی۔

ہرمہمان کےلیےماسک پہننالازم ہوگا۔ شادی میں شریک ہرمہمان کوماسک اور ینی ٹائزرمیزبان فراہم کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں