11

میوزیم سے کھربوں روپے مالیت کے نایاب ہیرے چرانے والا گروہ گرفتار

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس نومبر میں جرمنی کے مشرق میں واقع 18 ویں صدی کے ڈریسڈن گرین والٹ (Dresden Green Vault) میوزیم سے  واردات کے دوران نایاب اور قیمتی ہیرے چرائے گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق ڈکیٹ گروہ نے جرمنی میں قائم یورپ کے سب سے بڑے خزانے کے ذخیرے کو نشانہ بنایا تھا۔ ڈکیتی کے دوران میوزیم کی گھنٹی بجنے کے پانچ منٹ بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تھی تاہم ملزمان قیمتی ہیرے اور جواہرات ساتھ لیکر فرار ہوگئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق چرائے گئے جواہرات میں ہیروں سے جڑی تلوار، روبی اور جواہرات سے بنی دیگر درجنوں اشیا شامل تھیں۔  پولیس نے ایک سال کی تحقیقات کے بعد برلن میں کارروائی کرتے ہوئے تین رکنی ڈکیت گروہ کو گرفتار کرلیا ہے۔

جرمنی کی مختلف ریاستوں میں چھاپوں کے دوران ڈیڑھ ہزار پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا اور اہلکاروں نے متعدد گھروں، فلیٹوں اور  مختلف جگہوں کی تلاشی لی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار مشتبہ افراد کا تعلق برلن میں سرگرم بدنام زمانہ جرائم پیشہ گروہ سے ہے۔ گرفتار ملزمان پر آتش زنی اور سنگین ڈکیتی میں بھی ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کا جسمانی ریمانڈ  حاصل کرنے کے لیے مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

میڈیا رپوڑٹس کے مطابق پولیس نے گرفتار ملزمان کا نام  ظاہر نہیں کیا ہے تاکہ اس ڈکیت نیٹ ورک  سے تعلق رکھنے والے دوسرے ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی کے سیکسونی حکمران آگسٹس دی اسٹرانگ (Augustus the Strong) نے یہ  عجائب گھر 1723 میں تعمیر کرایا تھا جو دنیا کا قدیم ترین میوزیم مانا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں