22

تعلیمی ادارے بند کرنا پڑے تو کریں گے، وزیر تعلیم پنجاب

ہم نیوز کے مارننگ شو ‘صبح سے آگے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کورونا وائرس کی وجہ سے تعلیم کا حرج ہوا اور بچوں کا تعلیمی نقصان ہوا۔

میزبان اویس منگل والا اور شفا یوسفزئی سے ملاقات کے دوران مراد راس نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) میں تعلیمی اداروں سے متعلق تجاویز دی ہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ کل پنجاب کے تعلیمی اداروں سے متعلق اجلاس طلب کیا ہے۔ صوبائی، ضلعی اور ملکی سطح پر کورونا کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گزشتہ روز وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا تھا کہ اسکولوں کےحوالے سے فیصلہ اگلے ہفتے اجلاس میں ہوگا، بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ تجویز ہے کہ سلیبس کو کم اور گرمیوں کی چھٹیوں کو ختم کر دیں یا اکیڈیمک سال آگے کر دیں لیکن بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ پورے ملک میں نصاب کو ایک کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لوکل گورنمنٹ کا سسٹم تیار ہو گیا ہے، جلد نافذ کریں گے۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ہیلتھ سہولت کارڈ سے ایک خاندان 7لاکھ 40 ہزار روپے کا علاج کسی بھی اسپتال سے کرا سکتا ہے، یہ ایک بہترین سہولت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کم آمدنی والے خاندانوں میں 12ہزار روپےکے حساب سے رقوم فراہم کی گئیں، جلد ریڈیو چینل کے ذریعے پہلی جماعت سے 5ویں جماعت کے طلبا کو تعلیم دی جائے گی۔

وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں الگ الگ طبقہ اور ثقافت سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں، ہم نے کورونا سے پہلے 50 ہزار طلبہ کو ٹیکنالوجی کے اداروں میں مفت داخلے دیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں