14

’جادوئی کھمبی‘ سے آدھے سر کا درد بھی آدھا رہ جاتا ہے، تحقیق

منشیات میں شمار کی جانے والی جادوئی کھمبی کو ڈپریشن اور اینگژائٹی کے بعد مائیگرین کے علاج میں بھی مفید پایا گیا ہے۔ (فوٹو: فائل)

منشیات میں شمار کی جانے والی جادوئی کھمبی کو ڈپریشن اور اینگژائٹی کے بعد مائیگرین کے علاج میں بھی مفید پایا گیا ہے۔ (فوٹو: فائل)

کنیکٹیکٹ: امریکی طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ’جادوئی کھمبی‘ میں پائے جانے والے خصوصی مرکب ’سائیلوسائیبن‘ کی صرف ایک خوراک سے آدھے سر کا درد (مائیگرین) اگلے 15 دن تک نصف رہ جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ’جادوئی کھمبی‘ کا سائنسی نام ’سائیلوسائیبن مشروم‘ (psilocybin mushroom) ہے جو اسی نشہ آور مرکب کی موجودگی کے باعث اسے دیا گیا ہے۔

اگرچہ ’جادوئی کھمبی‘ (میجک مشروم) کا شمار منشیات میں کیا جاتا ہے جبکہ اس کا استعمال بھی اکثر ممالک میں غیر قانونی ہے، لیکن حالیہ چند برسوں میں ہونے والی تحقیق میں سائیلوسائیبن کو مختلف دماغی، نفسیاتی اور اعصابی امراض کے علاج میں مفید پایا گیا ہے جن میں تشویش (اینگژائٹی) اور اضمحلال (ڈپریشن) جیسی کیفیات بھی شامل ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیے: ڈپریشن کے علاج میں ’’جادوئی کھمبی‘‘ دوسری دواؤں سے 400 فیصد بہتر ہے، تحقیق

عشروں پر پھیلی ہوئی غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق، مائیگرین کے بہت سے مریضوں نے سائیلوسائیبن کا نشہ کرنے کے بعد دردِ سر نمایاں طور پر کم ہونے کے بارے میں بتایا تھا، تاہم اس حوالے سے باضابطہ سائنسی تحقیق کی ضرورت باقی تھی۔

ییل اسکول آف میڈیسن میں اعصابیات و نفسیات کی اسسٹنٹ پروفیسر ایمانوئیل شنڈلر کی قیادت میں یہ تحقیق 10 رضاکاروں پر کی گئی جو مائیگرین کے مریض تھے۔

ان میں سے نصف رضاکاروں کو اصل سائیلوسائیبن کی صرف ایک خوراک بہت ہی معمولی مقدار میں (0.143 ملی گرام فی کلوگرام جسمانی کمیت کے حساب سے) کھلائی گئی جبکہ باقی نصف کو سائیلوسائیبن کے نام پر کوئی اور بے ضرر مرکب دیا گیا۔ (اس طرح کی طبّی تحقیق کو ’’ڈبل بلائنڈ، پلاسیبو کنٹرولڈ اسٹڈی‘‘ کہا جاتا ہے۔)

جن رضاکاروں نے اصل سائیلوسائیبن کی خوراک لی تھی اُن میں اگلے دو ہفتے تک آدھے سر کا درد 50 فیصد کم رہا جبکہ اس دوران مائیگرین کے دوروں میں بھی واضح طور پر کمی نوٹ کی گئی۔

ان امید افزاء نتائج کے باوجود، ڈاکٹر شنڈلر نے خبردار کیا ہے کہ یہ تحقیق ابتدائی نوعیت کی ہے لہذا جب تک اس حوالے سے کوئی تفصیلی اور فیصلہ کن مطالعہ نہیں کرلیا جاتا، تب تک سائیلوسائیبن کو مائیگرین کے علاج میں استعمال نہ کیا جائے۔

اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’نیوروتھراپیوٹکس‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں