13

بلدیاتی انتخابات نہ کرانے پر الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت کوتوہین عدالت کانوٹس

عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ بلدیاتی انتخابات کیلئے سندھ حکومت کو نیا خط لکھا جائے۔

درخواست گزار محمود اختر نقوی نے مؤقف اپنایا کہ حلقہ بندی کا بہانہ کرکے بلدیاتی الیکشن روکے جارہے ہیں۔ سندھ حکومت 78ارب روپے کا سالانہ بجٹ کھانا چاہتی ہے۔

ابھی تک مردم شماری کے نتائج جاری نہیں کیے گئے۔ عدالت نے فروری میں حکم دیا تھا اب تک عمل درآمد نہیں ہوا۔

محکمہ شماریات کے نمائندے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت نے کمیٹی بنادی جس کی سفارشات کی روشنی میں جلد مردم شماری کے نتائج کا فیصلہ ہوجائے گا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کب تک بلدیاتی انتخابات کرائیں گے؟عدالت نے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت پندرہ دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

خیال رہے کہ سندھ میں30 اگست2020 کو بلدیاتی کونسلز کی مدت ختم ہوئی تھی اور آئین کے تحت بلدیاتی کونسلز کی مدت ختم ہونے کے 120 روز کے دوران بلدیاتی الیکشن کا انعقاد ہونا تھا۔

الیکشن کمیشن نے31 اگست کو سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کیا تھا۔ شیڈول کے مطابق مطابق یونین کونسل، یونین کمیٹیوں اور وارڈز کی حلقہ بندیاں کی جانی تھیں۔

بعد ازاں پیپلزپارٹی نے سندھ میں بلدیاتی حلقہ بندیاں رکوانے کے لئے الیکشن کمیشن میں درخواست دی تھی جب کہ سندھ حکومت نے بھی مردم شماری کے حتمی نتائج کے اجرا سے قبل حلقہ بندیوں پر اعتراض کیا تھا۔

اعتراض کے بعد الیکشن کمیشن نے سندھ میں بلدیاتی حلقہ بندیوں کا شیڈول واپس لے لیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں