13

زیادتی کے مجرمان کیلئے کیسٹریشن کا قانون بنانے کی منظوری

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے قانون سازی پر بحث کے دوران وزیراعظم نے کہا سنگین نوعیت کا معاملہ ہے قانون سازی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے تحفظ کیلئے واضح اور شفاف انداز میں قانون سازی ہو گی۔ یقینی بنایا جائیگا کہ سخت سے سخت قانون کا اطلاق ہو۔

اجلاس میں کچھ وزرا نے زیادتی کےمجرمان کیلئے سرےعام پھانسی کی سزا کو بھی قانون کا حصہ بنانےکامطالبہ کیا۔ فیصل واوڈا، اعظم سواتی اور نورالحق قادری نے پھانسی کی حمایت کی۔

عمران خان نے کہا کہ قانونی ٹیم نے ریپ قانون آرڈیننس کےمسودہ پرکام مکمل کرلیا ہے۔ وزیراعظم نے رائے دی کہ ابتدائی طورپرکیسٹریشن کےقانون کی طرف جاناہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین پولیسنگ، فاسٹ ٹریک مقدمات اور گواہوں کا تحفظ بھی قانون کا بنیادی حصہ ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے کوروناصورتحال پرقوم کواعتمادمیں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران خان پہلے ہی ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن اور اس کے نتائج کی ذمہ دارپی ڈی ایم پر ہوگی۔

گزشتہ 15 دنوں میں وینٹی لیٹرز پر کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ پشاور اور ملتان میں وینٹی لیٹرز پر مریضوں کی تعداد میں 200 فیصد تک اضافہ ہوا۔ کراچی 148، لاہور 114، اسلام آباد میں 65فیصد مریض وینٹی لیٹرپرگئے ہیں۔

وزیراعظم نے بتایا کہ اسلام آباد اورملتان میں وینٹی لیٹر کا استعمال 70فیصد ہے۔ پشاور اور ملتان میں وینٹی لیٹرز پر مریضوں کی تعداد میں 200 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ پارٹی قیادت اور جلسے کے منتظمین کے خلاف مقدمات کا اندراج ہونا چاہیئے۔ کورونا صورتحال پر عدالتی اور حکومت کے احکامات واضح ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقدمات کے اندراج سے متعلق حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔ ایسے حالات میں پی ڈی ایم جلسے کے نتائج انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں