22

فرعونی طرز کے لباس میں ماڈل کی تصاویر کھینچنے والا فوٹوگرافر گرفتار

افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ماڈل سلمیٰ الشیمی کو بھی قاہرہ سے گرفتار کیا گیا ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

مقامی فیشن ماڈل سلمیٰ الشیمی کی سوشل میڈیا پر فرعونی طرز لباس میں تصاویر سامنے آنے کے بعد عوام میں اس کے خلاف شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

سپریم کونسل برائے نوادرات کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مصطفیٰ وزیری نے واقعہ میں ملوث فیشن ماڈل کے خلاف فوری تحقیقات شروع کرنے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لانے کا حکم دیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ آثار قدیمہ کے علاقے میں کسی فیشن ماڈل کا فرعونی دور کا لباس پہن کر بغیر اجازت داخل ہونا اور وہاں پر ماڈلنگ کرنا غیرقانونی ہے۔

ماڈل سلمیٰ الشیمی نے اہرام مصر کے قدیم علاقے میں فرعونی دور کے کپڑے پہنے ہوئے تصویر کھنچوائیں اور انہوں نے متعدد ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائیں جنہیں بعد میں اپنے سوشل پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا تھا۔

مصر میں سماجی کارکنوں نے ماڈل کی اس حرکت پر اس کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

عوامی ردعمل کے بعد متعلقہ سرکاری حکام نے کہا تھا کہ جو بھی شخص نوادرات اور مصری تہذیب کے حق میں غفلت کا مظاہرہ کرے گا اسے سزا دی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ مکمل اور شفاف تحقیقات کے بعد آثار قدیمہ والےعلاقے میں ماڈل اور فوٹو گرافر کو اس  فیل کی اجازت دینے والے ملازم کی نشاندہی بھی کی جائے گی۔

عوامی ردعمل اور سرکاری احکامات کے بعد ماڈل سلمیٰ الشیمی نے اپنے اکاؤنٹ سے تصاویر اور ویڈیوز ہٹا دی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں