25

قومی اسکواڈ کورونا کیسز کے باوجود دورہ نیوزی لینڈ جاری رکھنے پر رضامند

نیوزی لینڈ میں موجود قومی کرکٹ اسکواڈ نے دورہ جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم مینجمنٹ سے رابطہ کیا۔ کھلاڑیوں نے سیریز کھیلنے کے متعلق اپنے موقف سے پی سی بی حکام کو آگاہ کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے کھلاڑیوں سے دورہ جاری رکھنے سے متعلق فیڈ بیک مانگا تھا اور کھلاڑیوں نے دورہ جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

کھلاڑیوں نے کہا مشکل صورت حال ضرور ہے لیکن کرکٹ کھیلنے کو تیار ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سی ای او وسیم خان نے کہا ہے کہ زیادہ تر کھلاڑیوں کے ٹیسٹ نتائج منفی آنے کےباوجود ٹریننگ کی اجازت نہ ملنا افسوسناک اور مایوس کن ہے۔

وسیم خان نے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور کپتان بابراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے دونوں سے قومی اسکواڈ کی خیریت دریافت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی نیوزی لینڈ کرکٹ سے رابطے میں ہے، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کھلاڑی اپنی آئسولیشن کی مدت پوری کرنے کے بعد کرکٹ پر فوکس کریں۔

وسیم خان نے بتایا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ اور نیوزی لینڈ کی وزارت صحت سے رابطہ کیا ہے۔ پی سی بی نے نیوزی لینڈ وزارت صحت سے اسکواڈ کی کورونا رپورٹ پبلک نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا۔

خیال رہے کہ دورہ نیوزی لینڈ پر گئے قومی اسکواڈ میں شامل6 اراکین کے کورونا ٹیسٹ مثبت آگئے ہیں اور ٹریننگ مؤخر کر دی گئی ہے۔

گزشتہ روزقومی اسکواڈ کے 43 ارکان کے چوتھی بار کوروناٹیسٹ لیےگئے۔ اسکواڈ میں شامل ایک رکن کا آکلینڈ میں چوتھی بار ٹیسٹ لیا گیا ہے۔

نیوزلینڈ ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق10میں سے 6 ارکان کےٹیسٹ مثبت آئے ہیں اور4 کےہسٹارک کیسز قرار دیا گیا ہے۔

جن ارکان کا ٹیسٹ مثبت آیا ان کا روزانہ کی بنیادپرطبی معائنہ جاری ہے۔ نیوزی لینڈ ہیلتھ اتھارٹی نے قومی اسکواڈ کے ٹیسٹ نتائج پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے منتقل ہونے کا خطرہ موجودہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں