15

آنکھوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مناظر کو براہِ راست دماغ پر دکھانے کا انوکھا تجربہ

ہالینڈ کے ماہرین نے آنکھ کی بجائے دماغی قشر پر سگنل ڈال کر بندروں کو دیکھنے کے قابل بنایا ہے۔ فوٹو: فائل

ہالینڈ کے ماہرین نے آنکھ کی بجائے دماغی قشر پر سگنل ڈال کر بندروں کو دیکھنے کے قابل بنایا ہے۔ فوٹو: فائل

ایمسٹر ڈیم، ہالینڈ: آنکھوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مناظر کو براہِ راست دماغ پر ظاہر کرنے کا ایک انوکھا تجربہ کیا گیا ہے۔ اس میں دو بندروں کو آنکھوں کے پردہ چشم پر کوئی منظر نہیں دکھایا گیا بلکہ ان کے دماغ میں خاص الیکٹروڈ (برقیرے) لگائے گئے جو حروف کے سگنل ظاہر کررہے تھے۔ اس طرح کسی دماغ میں پیوند لگا کر واضح ترین (ہائی ریزولوشن) عکس حاصل کیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران آنکھوں کو کسی بھی طرح استعمال نہیں کیا گیا۔ پائٹر روئلفسیما نے اسے ایک عمدہ خبر قرار دیا ہے جو نیدرلینڈ انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنس کے سائنس داں ہیں۔ اس سے مکمل طور پر اندھے پن سے متاثر افراد کچھ نہ کچھ بینائی ضرور حاصل کرسکتے ہیں۔

اس سے قبل سرپر لگے کیمروں اور ریٹینا میں لگے پیوند تک مناظر پہنچاکر بعض لوگوں کو بلیک اینڈ وائٹ مناظر دیکھنے کے قابل بنایا گیا ہے لیکن تصویر کا معیار بہت بھدا ہوتا ہے۔ 2013ء میں امریکا میں 60 الیکٹروڈ والے آرگس ٹو نامی  پیوند کو باقاعدہ استعمال کے لیے منظوری دی گئی تھی۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ آرگس ٹو جیسی ٹیکنالوجی ان مریضوں کے لیے بے کار ہے جن کے بصری اعصاب اور رگیں (آپٹک نرو) تباہ ہوچکے ہیں۔ اس کی بجائے پروفیسر پائٹر نے دماغ کے ایک اہم حصے (بصری کارٹیکس) کا انتخاب کیا۔

یہ ہمارے دماغ میں سنیما اسکرین کی طرح کام کرتا ہے۔ اس کا ہر علاقہ ایک بصری فیلڈ کی طرح کام کرتا ہے۔ یہاں الیکٹروڈ پر A کی شکل کسی تصویر کا سگنل دیا جائے تو اصولی طور پر دیکھنے والا بھی اسے A ہی سمجھے گا اور ایسے ہی محسوس کرے گا۔ لیکن برقیرہ صرف بصری قشر کی سطح پر رکھا جائے تو اس سے وہ نتائج برآمد نہیں ہوتے بلکہ دیکھنے والا صرف چند نکتے محسوس کرسکتا ہے۔

اس کے لیے ماہرین نے ڈیڑھ ملی میٹر طویل سوئی کی مانند سلیکن الیکٹروڈ استعمال کیے اور انہیں دماغی قشر کےاندر تک پیوست کیا۔ اس میں 64 الیکٹروڈ کی 16 قطاریں تھیں۔ جب دو ریسس بندروں میں انہیں لگایا گیا تو ہر بندر کے پاس 1024 برقیروں کا پیوند لگا تھا۔

پہلے ان بندروں کو کمپوٹر پرانگریزی کے 16 حروف دکھا کر ان کی آنکھوں کی حرکات نوٹ کی گئیں۔ پھر ان کی آنکھیں بند کرکے انہیں دماغی طور پر حروف دکھائے گئے تو ان کی بند آنکھوں کی حرکات عین ویسی ہی تھیں۔ یعنی وہ دماغی پر بننے والے عکس کو دیکھ رہے تھے ناکہ اپنی نگاہوں سے کوئی حرف دیکھا تھا۔

اگرچہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے مشکل ہے کیونکہ انسانی دماغ میں بصری قشر بہت گہرائی میں ہوتا ہے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ الیکٹروڈ ناقص بھی ہوسکتے ہیں تاہم یہ ٹیکنالوجی اتنا ضرور ثابت کرتی ہے کہ آنکھوں کی بجائے کسی منظر کو براہِ راست دکھانا ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں