13

سماعت اگلے سال تک ملتوی کرنے کی اسٹیٹ بینک کی استدعا مسترد

چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ مقدمے کو طویل عرصے تک ملتوی نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اسٹیٹ بینک  کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل اور اسٹیٹ بینک کے حکام نے مزید وقت دینے کی استدعا کی ہے۔ اٹارنی جنرل اور صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز اس عدالت کے سماعت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرچکے۔

عدالت نے کہا کہ وفاق اپنا جواب جمع کراچکا ہے، جواب ریکارڈ کا حصہ ہے۔ ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے پابند ہیں، ملک میں پانچ بینک اسلامک بینکنگ کام کر رہے ہیں۔ عالمی بینک بھی اسلامک بینکنگ کی حمایت کررہا ہے۔

اسٹیٹ بینک  کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آئین کے تحت یہ پالیسی معاملہ ہے،عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔ آئین کا آرٹیکل 38 بھی حکومت کو پابند نہیں کرتا کہ اتنے عرصے میں رباہ ختم کیا جائے۔

اسٹیٹ بینک  کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آرٹیکل 38 میں کہا گیا ہے کہ ریاست جتنا جلدی ممکن ہوگا رباہ ختم کرے گی۔

عدالت نے فریقین سے تحریری موقف طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ ملک سے سودی نظام کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی نے شریعت کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں