16

سیلف جنریٹنگ ڈس انفیکشن سسٹم ایجاد

نئی دہلی: عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دنیا بھر کے طبی ماہرین کا اس امر پراتفاق ہے کہ ماسک کا استعمال لازمی کیا جائے اور سماجی فاصلے کو برقرار رکھتے ہوئے پرہجوم مقامات پہ جانے سے گریز کیا جائے۔

کرسمس پر کورونا امریکیوں کیلئے مزید خطرناک قرار

کووڈ 19 کے متعلق شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ وبا پرہجوم مقامات پہ زیادہ پھیلتی ہے اور لوگ ایک دوسرے سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں لیکن اب ’سیلف جنریٹنگ ڈس انفیکشن سسٹم‘ تیار کیا گیا ہے جو پرہجوم جگہوں پر لوگوں کو یقینی تحفظ فراہم کرے گا۔

شمسی توانائی سے چلنے والا سیلف جنریٹنگ ڈس انفیکشن سسٹم جامعہ ملیہ اسلامیہ بھارت کے دو میکینیکل انجیئرز نے تیار کیا ہے جس کے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس سمیت دیگر بیکٹریاز کو بھی ختم کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ مکینیکل انجینئرنگ کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ (ایچ او ڈی) پروفیسر محمد عمران خان اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسامہ خان کی محنت اور تحقیق سے تیار ہونے والا سیلف جنریٹنگ ڈس انفیکشن سسٹم ہے۔

ایجاد کے متعلق بھارتی حکومت کے سرکاری جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دو میکنیکل انجینئرز نے اس کو ایجاد کیا ہے۔

کورونا وائرس، دنیا بھر میں 15 لاکھ 50 ہزار سے زائد اموات

شمسی توانائی سے چلنے والے سسٹم کے متعلق درج ہے کہ اس کے استعمال سے کووڈ 19 سمیت دیگر مضر صحت بیماریوں سے بھی بچاؤ ممکن ہے۔

بھارت کے سرکاری جرنل میں لکھا گیا ہے کہ سیلف جنریٹنگ ڈس انفیکشن سسٹم میں شمسی آلات (جیسے کہ پی وی ماڈیولز، چارج ریگولیٹر، انورٹر اور بیٹری سسٹم) لگائے گئے ہیں۔ ان آلات کی مدد سے جراثیم کش دھند پیدا کی جاتی ہے جو انسان پر اثر انداز ہونے والے کووڈ 19 سمیت کسی بھی قسم کے بیکٹریا کو ختم کردیتی ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس پورے سیٹ اپ کے لیے صرف چھوٹی سی جگہ درکار ہو گی اور اس میں کسی بھی قسم کی وائرنگ کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔

بھارت کے سرکاری جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ماحول دوست اورقابل تجدید توانائی پر کام کرتا ہے۔

پاکستان میں5ماہ بعدکورونا کا سب سے بڑا وار

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مکینیکل انجینئرز کی جانب سے تیار کیا جانے والا سسٹم بنیادی طور پر شادی ہالوں، بینکس، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، مساجد، ہوائی اڈوں، اسپتالوں، ہوٹلوں اوردیگر ایسے ہی مقامات کے لیے تیار کیا گیا ہے جہاں لوگوں کی آمد و رفت بہت زیادہ ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں