20

حزب اختلاف قومی مسئلے پر بات کرنا چاہتی ہے تو بات کرے، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم ہیومن رائٹس کے عالمی ڈیکلیئریشن کو تسلیم کرتے ہیں لیکن آج مقبوضہ جموں و کشمیر میں عالمی ڈیکلیئریشن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھرمیں آج انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ 5 اگست 2019 سے لے کر آج تک 101 خواتین کی اجتماعی آبروریزی ہوئی لیکن بین الاقوامی میڈیا کو رسائی نہیں ہے اور مقبوضہ کشمیر سے جو خبریں آرہی ہیں وہ تشویشناک ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق سلب ہیں اور مکمل کمیونیکیشن بلیک آؤٹ ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پاکستان نے تمام ذمے داروں کو صورتحال سے آگاہ رکھنے کی کوشش کی ہے جبکہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور صدر سلامتی کونسل کو مسلسل صورتحال سے آگاہ رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے اندر اقلیتیں سراپا احتجاج ہیں جبکہ بھارت کا سیکولراسٹیٹ اور سب سے بڑی جمہوریت کا تاثر بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر انتہائی سنگین ہے اور ملک میں 50 سے 70 اموات روزانہ ہو رہی ہیں۔ حزب اختلاف کو اس وبائی صورتحال کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جلسوں کے خلاف نہیں لیکن دنیا وبائی صورتحال اور خطرات سے آگاہ کر رہی ہے۔ حزب اختلاف کسی قومی مسئلے پر بات کرنا چاہتی ہے تو میں یہی کہوں گا کہ آیے بات کیجئے۔ حزب اختلاف اس نظام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج جو لوگ جمہوریت کے علمبردار بنتے ہیں وہی جمہوریت کونقصان پہنچا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں