13

سنگل ریمیڈی پریکٹس – ایکسپریس اردو

 درست دوا کے انتخاب کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کیس ٹیکنگ کتنی اچھی کرتے ہیں۔ فوٹو: فائل

درست دوا کے انتخاب کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کیس ٹیکنگ کتنی اچھی کرتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ہم ولمار شوابے جرمنی کے ممنون ہیں کہ یہ ادارہ پاکستان میں سنگل ریمیڈی پریکٹس کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

ڈاکٹر حمید جنرل ہومیو کے سربراہ ڈاکٹر انعام الحق سنگل ریمیڈی پریکٹس کے فروغ میں ذاتی دلچسپی لیتے ہیں جس کی بنا پر وطنِ عزیز میں سنگل ریمیڈی پریکٹس کے رحجان میں اضافہ ہو رہا ہے۔یہ ادارہ گزشتہ کئی سالوں سے سنگل ریمیڈی کے فروغ کے لیے سالانہ بنیادوں پر پاکستان بھر میں باقاعدگی سے سیمینارز کا انعقاد کراتا ہے۔

درست دوا کے انتخاب کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کیس ٹیکنگ کتنی اچھی کرتے ہیں۔اناٹومی ، فزیالوجی، پیتھالوجی اور بیماریوں کا علم حاصل کرنا بھی اشد ضروری ہے۔ میں سمجھتا ہوں ایک ہومیوپیتھ کے لئے ضروری ہے کہ اسے ہیومن سائیکالوجی اور میڈیکل سائنس سے بھی متعارف ہونا چاہیے۔

دوا کو اس کی حقیقت میں سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ انسانوں کو ان کے رویے ، مزاج، جذبات اور ماحولیاتی رد عمل کے پس منظر میں سمجھیں۔ مزاجی دوا کیا ہے؟  آپ کے گردوپیش چلتے پھرتے انسان ہی تو ہیں۔ میٹیریا میڈیکا رٹا لگانے کی چیز نہیں ہے۔کیس ٹیکنگ کے دوران دماغ کو حاضر رکھیں۔ Subjective اور  Objective   دونوں علامات کی اہمیت ہے۔

علامت کیا ہوتی ہے؟اسے بھی سمجھنا ضروری ہے۔علامت در اصل ایک احساس کا نام ہے جو آپ کے نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کی توجہ اپنی طرف مرکوز کر لے۔ جو آپ کے روزمرہ معمولات میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہو۔ ایسی علامت جو پیتھالوجی بن جائے، جو بیماری کی حالت میں مریض کی انفرادیت ظاہر کرتی ہو، جسے ہم میٹیریا میڈیکا اور ریپرٹری میں تلاش کر سکیں، جو صحت کی ابنارمل حالت کو ظاہر کرے۔ ہومیوپیتھک پریکٹس میں علامات شاہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

آپ میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ جب مریض کلینک میں داخل ہوتا ہے تو ہمیں کچھ پتا نہیں ہوتا اس کی کون سی دوا ہو گی۔ ہم اپنی گزشتہ کامیابیوں یا نسخوں پر انحصار نہیں کر سکتے کیونکہ ہر کیس نیا کیس ہوتا ہے۔

آپ کیس ٹیکنگ پر جتنی محنت اور توجہ کریں گے کامیابی کے امکانات اتنے بڑھتے چلے جائیں گے۔ یاد رکھیے ،کیس ٹیکنگ محض علامات کا جمع کرنا ہی نہیںبلکہ دیکھنا ہے کہ قوت حیات کا رساؤ (Leakage)  کہاں پر ہے۔ دھاگے کا سرا پکڑنا پڑتا ہے۔ ورنہ اگر یہ سرا ایک بار چھوٹ جائے تو معالج بھول بھلیوں میں پھنسا رہتا ہے ۔ہم سمجھتے ہیںکہ صحت محض بیماری کی غیر موجودگی کا نام نہیں ہے۔

ہومیوپیتھی نظریہ صحت کے مطابق ہر وہ شکایت یا تکلیف جو آپ کے روزمرہ معمولات میں رکاوٹ بنے بیماری ہے۔چاہے وہ بظاہر کتنی ہی معمولی یا کتنی ہی مضحکہ خیز کیوں نہ ہو۔ چاہے لیبارٹری اسے recognizeکرے یا نہ کرے۔ دردیں ،تکالیف ،پریشانیاں تو Signals   ہیں جنھیں بیماری کی حا لت میں ہمارا دفاعی نظام علامات کی صورت Transmit   کرتاہے کہ اسے بیرونی امداد کی ضرورت ہے۔ بجائے دفاعی نظام کی مدد کرنے کےSignals  کو ختم کر دینا کون سی دانش مندی ہے۔

مریض اگر یہ بیان دیتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب جتنا عرصہ آپ کی دوا کھاتا رہوں آرام رہتاہے، دوا چھوڑوں تو تکلیف دوبارہ آ جاتی ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ Suppression   ہو رہی ہے۔  زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جہاں ہومیوپیتھی آپ کے کام نہ آ سکتی ہو۔ جسم کا کوئی ایساآرگن نہیں جہاں یہ اثرانداز نہ ہوتی ہو، زندگی کا کوئی ایسا موڑ نہیں جہاں یہ آپ کو نظر نہ آتی  ہو۔ سماجی اور معاشی سطح پر جتنا مفید اور اہم کردار ہومیوپیتھی کا ہے کسی اور سسٹم میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔

فرض کریںایک شخص کسی جھگڑے میں زخمی ہوکر ڈاکٹر کے پاس مرہم پٹی کرانے آتا ہے۔اگر وہ Conventional  علاج کرائے گا توڈاکٹر اس کی مرہم پٹی کرے گا اور ممکن ہے کچھ اینٹی بائیوٹکس یا Painkillers   دے کر مریض کو رخصت کر دے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس شخص کے دل  پرجو زخم آئے ہیں، اس کی جو بے عزتی ہوئی ہے،اسے جو صدمہ پہنچا ہے اور اس کے جذبات جو مجروح ہوئے ہیں ان کا علاج کون کرے گا؟  ایک ہومیوپیتھ نہ صرف اس کے جسم پر لگنے والے زخم کی مرہم پٹی کرے گا بلکہ اس کی مزاجی یا causative  دوا دے کر اس کے دل کے درد کا درماں بھی کرے گا۔اور یوں اس شخص کوپھر سے معاشرے کا کار آمد پرزہ بنا دے گا۔

اسے کسی سائکالوجسٹ یا سائکارٹرسٹ کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ ہومیوپیتھی کا کمال ہے۔ IT PROVIDES YOU A SAFE EXIT.آپ میری اس بات سے متفق ہوںگے کہ ہماری بعض دوائیں نہ صرف ذات اور شخصیت کی شناخت رکھتی ہیں بلکہ ان کا ہمارے خاندان ، ہمارے رسم ورواج ، رہن سہن اور ماحول پر بھی اثر ہوتا ہے۔ وہ کیسے؟ آئیے ہم کچھ دواؤں کا مزاجی اعتبار سے مطالعہ کرتے ہیں۔

میں آپ کو ایک خاندان کی مثا ل دیتا ہوں۔ ایسے گھرانے جن کے ہاں شدت پسندی ہو،برداشت کی کمی ہو، جہاں والدین بچوں کو شیر کی نظر سے دیکھتے ہوں۔ سخت گیر باپ کے گھر میں قدم رکھتے ہی مکینوں کو سانپ سونگھ جاتا ہو۔ ٹی وی ،ریڈیو، کمپیوٹر یا ایسی کسی سوشل ایکٹی وٹی پر سختی سے پابندی ہو۔ ایسا گھٹن زدہ ماحول ہو کہ بچے کھل کر سانس بھی نہ لے سکیں۔ جہاں بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوو نما جمود کا شکار ہو جاتی ہو۔ جہاں والد صاحب اولاد کی ہر دلیل پر ’’ باپ میں ہوں یا تم‘‘ کا کلہاڑا چلا دیتے ہوں۔

جہاں کسی بات پر قہقہہ مار کر ہنسنا بے ادبی اور گستاخی سمجھا جاتا ہو۔ایسا گھر جہاں صرف حکم کی حکمرانی چلتی ہو۔ بات بات پر بچوں کو نالائق ، احمق، الو اور گدھے جیسے خطابات سے نوازا جاتا ہو تو خود اعتمادی سے محروم ایسے گھروں میں کس طرح کے بچے پروان چڑھتے ہیں؟

اناکارڈیم،  سٹیفی،  کارسی نوسن،  اگنیشیا جیسے بچے۔ خود اعتمادی سے محروم ڈرے سہمے بچے۔اور ایسے جابر، اصول پرست گھرانے کون سے ہوتے ہیں؟  اورم میٹ،  کالی کارب،  لائیکوپوڈیم،  نکس وامیکا وغیرہ۔اب اناکارڈیم کی مثال لیں۔یہ بچے خود اعتمادی کے فقدان کے سبب امتحان کے دنوں یا انٹرویو کے وقت سخت کنفیوژن کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں اگر کلاس میں کھڑا کر کے

اچانک ان کا نام پوچھا جائے تو گڑبڑا جاتے ہیں۔ اپنا نام بھی نہیں بتا سکتے۔اس علامت پر اناکارڈیم اپنی مثال آپ ہے۔ایسے بچوں میں ایک عجیب رد عمل ابھر تا ہے۔ ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ کھا کے یہ اپنی خود اعتمادی کھو بیٹھتے ہیں۔ ان کی شخصیت اخلاقیات اور Moral Values  سے عاری ہو جاتی ہے۔ یہ بچے تشدد پسندی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔نکس وامیکا،  اناکارڈیم،  ہیپرسلفراور لائیکوپوڈیم کسی کی بے عزتی کرنے پر آ جائیں تو شیطان بھی ان سے پناہ مانگتا ہے۔

گندی بازاری زبان استعمال کرنے کے حوالے سے ہائیوسائمس اور وریٹرم البم بھی کسی سے کم نہیں۔اناکارڈیم بچے میں والدین کی جھڑکیں اور گالیاں سن کر اور مار کھا کھا کر ان کے خلاف انتقامی جذبہ پید ہو جاتا ہے۔اور یہ بچہ اکثر کہتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر والدین سے اپنی سزا کا بدلہ لے گا۔اپنے سے کمزور اور چھوٹے بہن بھائیوں پر حکم چلانے اور انہیں مارنے پیٹنے کے حوالے سے یہ لائیکوپوڈیم اورٹیوبرکلونیم کے قریب ہے۔

فرض کریں گھر میں اس کی کسی بہن بھائی سے لڑائی ہو گئی اور یہ والدین کی موجودگی میں خاطر خواہ بدلہ نہ لے سکا لیکن جس دن والدین گھر پرنہ ہوں گے یہ اس دن ان سے بدلہ لینے کی کوشش کرے گا۔ والدین حیران ہوتے ہیں کہ اتنی چھوٹی عمر میں بچے نے اتنی گندی زبان کہاں سے سیکھ لی۔ نائیٹرک ایسڈ کی طرح انتقامی دوا ہے۔یہ لڑکا جب ذرا بڑا ہوتا ہے تو والدین کے سامنے سرکشی پر اتر آتا ہے۔اور سیانے والدین اس سے کنی کترانے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ ہائیوسائمس اور اناکارڈیم کا مزاج بہت ملتا جلتا ہے لیکن اناکارڈیم میں سنگ دلی جبکہ ہائیوسائمس میں شہوانی پہلو نمایاں ہوتا ہے۔

دوران انٹرویو ہائیوسائمس بچے بہت کھل جاتے ہیں جب کہ اناکارڈیم بہت کچھ چھپا جاتا ہے۔اکثر سوالات کے جوابات محض ہاں یا نہ میں دیتا ہے یا سر کی جنبش سے۔اناکارڈیم شخصیت کی ایک اور نمایاں صفت یہ ہے کہ یہ سنجیدہ باتوں پہ مسکرا پڑتا ہے اور ہنسی مذاق جیسے موضوع پر سنجیدگی کا مظاہرہ کر دیتا ہے۔رابن مرفی کی ریپرٹری میں ہائیوسائمس اوراناکارڈیم 853   علامات میں مشترک ہیں۔

برسات کے موسم میں مینڈک اکثر نظر آتے ہیں۔ ان دنوں کسی جوہڑ کے کنارے مینڈک پکڑ کر اس کے اوپر بھاری پتھر رکھ کر اسے بتدریج مرتے ہوئے دیکھنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ہمارے محلے میں ایک لڑکا تھا جو سارا دن کتے بلیوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر انہیں پکڑ لیتا تھا اور انہیں رسی سے باندھ کر پتھر مار مار کر لہو لہان کر دیتا اور مزے لیتا رہتا۔ ان لوگوں کے مزاج میں عجیب طرح کی بے رحمی اور سفاکی آ جاتی ہے۔آپ نے سنا اور پڑھا ہوگا کہ ٹارچر سیلوں میں قیدیوں اور مجرموں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ اناکارڈیم اس پوسٹ کے لئے بہت موزوں ہوتا ہے۔

اس کا دل ذرا نہیں پسیجتا۔ملزم یا مجرم جتنا زیادہ چیختا چلاتا اور رحم کی اپیلیں کرتا ہے، یہ اتنا ہی زیادہ مزہ لیتا ہے۔ایسا شخص چائے کا کپ پینے کے دوران بڑی آسانی سے مجرم کی انگلیوں کے ناخن اتار پھینکتاہے۔یہ سگریٹ بھی پیتا جائے گا اوراسی سگریٹ سے مجرم(یا ملزم) کی جلد بھی ڈستا رہے گا۔

ایک دفعہ کا واقعہ ہے ایک بچے نے بڑے آرام سے چھوٹے بھائی کو پکڑا اورسوئمنگ پول میںدھکا دے دیا۔ اور اس کے بعد بڑے سکون سے اسے ڈبکیاں کھاتے مرتے اور ہاتھ پاؤں مارتے دیکھتا رہا۔بعد میں جب اس سے پوچھا گیا کہ اس نے ایسے کیوں کیا؟ تو اس کا سادہ سا جواب تھا۔’’ میں نے تو ذرا سا دھکا دیا تھا، خود ہی ڈوب گیا۔‘‘ اناکارڈیم بڑی سفاک، بے رحم اور ستمگر دوا ہے۔

اناکارڈیم منقسم قوت ارادی کا مالک ہوتا ہے۔اس کے دماغ میں بیک وقت اچھائی اور برائی کے درمیان جنگ جاری رہتی ہے۔قرآن نے نفس امارہ اور نفس لوامہ کے درمیان کشمکش کا ذکر کیا ہے، یہی کشمکش اناکارڈیم میں پائی جاتی ہے۔ شیزوفرینیا کی دواؤں میں اس کا نمبر ٹاپ پر ہے۔آپ نے اخباروں میں اکثر پڑھا ہو گا، ایک شخص نے بلاسبب سکول کے بچوں پر فائرنگ کر دی اور بعد میں بیان دے دیا کہ اسے خدا کی طرف سے ایسا حکم ملا تھا۔اناکارڈیم ایسے ہی ہوتے ہیں۔جب ہم اناکارڈیم کے مرکزی خیال کی بات کرتے ہیں تو ایک لفظ ابھر کر سامنے آتا ہے۔اور وہ ہے

Inner Conflic یعنی دماغ میں کشمکش یا متضاد خیالات کی بھر مار۔

ریپرٹری میں اس علامت کو Antagonism Conflict  کہتے ہیں۔ اسی سے ملتی جلتی ایک اور Rubric ہے۔ Contradiction of Will اس علامت پر اناکارڈیم سب سے نمایاں ہے۔ بلکہ کیپیٹل میں واحد دوا ہے ایک شخص ذہنی کشمکش سے کیسے دوچار ہو تا ہے۔ اسے ہم ایک مثال سے واضح کرتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کو اس کا باس جھاڑ پلاتا رہتا ہے۔ تم نکمے ہو، نالائق ہو، تم کا م کو سمجھتے نہیں۔تم کمپنی پر بوجھ ہو، تمہیں کو ئی اور نو کری ڈھونڈ لینی چاہیے۔ لیکن یہ شخص اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنے آپ کو لائق اور با صلاحیت ثابت کرنا چاہتا ہے لیکن احساس کمتری کا شکار ہے۔ ایسی صورت میں اس کے اندر کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔

ایمرجنسی میں اس کے کیا فائدے ہیں؟ میں اس کی صرف ایک مثال دوں گا۔ Myocardiac Infarction   (heart attack) یہاں ہومیوپیتھی کی صرف ایک دوا Aconite 10M  ، ریسکیو ریمیڈی کا کردار ادا کرتے ہوئے مریض کو موت کے منہ سے باہر نکال لاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر ہر ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ اور کارڈیک سنٹر میں یہ دوا بھی رکھ دی جائے تو نہ جانے کتنی قیمتی جانیں بچا لی جائیں۔  ہمیں تعصب سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں