12

جینیاتی تبدیل شدہ ٹماٹرالزائیمرکی دوا ثابت ہوسکتا ہے

جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ٹماٹر سے الزائیمر اور پارکنسن کی دوا بنان بہت آسان ہے۔ فوٹو: فائل

جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ٹماٹر سے الزائیمر اور پارکنسن کی دوا بنان بہت آسان ہے۔ فوٹو: فائل

 لندن: جینیاتی طورپرتبدیل شدہ (جینیٹک موڈیفائڈ) ٹماٹرسے غریب ممالک کوالزائیمرمیں افاقہ کرنے والی دوا ایل ڈوپا کی قدرتی طور پر تیز رفتار فراہمی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ ایل ڈوپا نامی دوا کو براہِ راست کھانے سے غنودگی اور رویے میں تبدیلی جیسے سائیڈ افیکٹس کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔ ٹماٹر پوری دنیا میں آسانی سے اگائے جاسکتے ہیں اور اب چقندر کے رنگوں میں قدرتی طور پر پایا جانے والا ایل ڈوپا جینیاتی طور پر ٹماٹروں میں آسانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے لیے چقندر میں ایل ڈوپا کے جین نکال کر اسے ٹماٹر میں ڈالا گیا ہے۔

برطانیہ میں واقع جان انیس سینٹر کے سائنسدانوں نے ایل ڈوپا کی تالیف (سنتھے سز) کرنے والا جین ٹماٹر میں ڈالا ہے۔ اس طرح ٹماٹر ایل ڈوپا سے مالا مال بھی ہوسکتا ہے اور غذا کے ساتھ الزائیمر کی دوا بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔  اس طرح ایک کلوگرام ٹماٹر میں 150 ملی گرام تک ایل ڈوپا دوا پیدا ہوسکتی ہے اور اس سے پودے اور پھل پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

لیکن اتنے ٹماٹر کھانا کوئی آسان کام نہیں اور یوں اگلے مرحلے میں ایل ڈوپا سے بھرپور ٹماٹروں سے دوا کو کسی محفوظ طریقے سے اخذ کرکے اس سے سستی اور تیزرفتار دوا بنائی جائے گی۔ اس طرح ایل ڈوپا کی قیمت کم ہوسکتی ہے اور غریبوں کی دسترس تک پہنچ جائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایل ڈوپا والے جینیاتی ٹماٹر عام گرین ہاؤس میں کاشت کئے جاسکتے ہیں۔

امید ہے کہ اس طرح ایل ڈوپا کی کم خرچ اور تیزرفتار پیداوار ممکن ہوسکےگی۔ افریقہ جیسے ملک میں بھی مقامی فیکٹری اسے آسانی سے تیار کرسکے گی۔ ایل ڈوپا مرکب آسانی سے حل پذیر ہوجاتا ہے اور اسےخالص حالت میں دوا میں ڈھالنا بہت آسان ہے۔  واضح رہے کہ پارکنسن کی ایک دوا کی روزانہ کی قیمت دو ڈالر ہے لیکن غریب ممالک کے مریض اسے خریدنے کی سکت بھی نہیں رکھتے۔ ایل ڈوپا مائن ایک طرح کا امائنو ایسڈ ہے جو ڈوپا مائن نامی کیمیکل کا پیش رو ہے۔ الزائیمر اور پارکنسن کے مریضوں میں ڈوپامائن کم ہوجاتا ہے جس کی کمی ایل ڈوپا پوری کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں