37

نکاح نامہ میں نظر انداز کی جانے والی شقیں

نکاح نامہ کی شق 18 اور 19 خواتین کو بھی طلاق کا حق دیتی ہیں لیکن انہیں دلہن کی اجازت کے بغیر ہی  کاٹ دیا جاتا ہے۔

شادی کے بندھن میں  نکاح نامہ مرد اور عورت کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس میں دونوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا گیا ہے لیکن معمول یہ ہے  کہ عورت کے حقوق سے متعلق شقوں کو یک جنبش قلم میں کاٹ دیا جاتا ہے۔

نکاح نامہ کی 1 سے 5 تک شقیں بنیادی معلومات ہیں جن میں نام ،پتہ ، تاریخ پیدائش  وغیرہ کو درج کیا جاتا ہے جبکہ شق نمبر 6 دلہن کی عمر کے بارے میں ہے کیونکہ  شادی کے لیے  لڑکے لڑکی کی عمر  18 سال ہونا ضروری ہے۔

نکاح نامہ کی شق نمبر 13 سے 17 تک دلہن کو دی جانے والی مہر کی تفصیلات درج ہوتی ہیں جن کے بارے میں قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ ان پر عمل درآمد کا فقدان ہے۔

ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر احمدایڈوکیٹ نے کہا کہ نکاح کے پچیس کالم کیا ہیں اوروہ کیا کہتے ہیں اس سے متعلق آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے جس کے ذریعے نکاح کے بندھن میں بندھنے والوں کوپتہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ نکاح نامہ میں کیا لکھا ہے کسی کو نہیں پتہ نہیں ہوتا بس دستخط لے لیے جاتے ہیں، کالم پندرہ کو ختم کیا جائے کیونکہ خریدوفروخت ہوتی ہے۔

ایڈووکیٹ شائستہ خان نے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب نکاح ہو رہا ہوتا ہے تو خواتین کو کاپی دینے کو تیار نہیں ہوتے کہ ان کو نکاح نامے میں اس کے حقوق نہ پتہ چل جائیں۔

نکاح نامہ کی شق نمبر 18 اور 19 میں لڑکی کو طلاق کا حق دیا جاتا ہے جسے عام طور پر  پہلے ہی کاٹ دیا جاتا ہے۔ایسی صورت  میں لڑکی صرف عدالت کے ذریعہ خلع مانگ سکتی ہے۔

ایڈوکیٹ آمنہ خالد،  ستار خان نے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے  اگرایک معاہدہ بنا ہےتواس کومکمل کرنا چاہیے۔ یہ کاٹ دینا وہ کاٹ دینا ٹھیک نہیں ہے۔ میرے پاس خلع کے ہزاروں کیس پڑے ہیں اس لیے کہ نکاح نامے میں شقیں کاٹ دی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر نکاح کے وقت حق دے دیں تو یہ مسئلہ ہی حل ہوجاتا ہے اور سالوں کورٹ کچہری کے  چکر نی لگانے پڑیں اور کورٹ کا بوجھ بھی نہیں بڑھے گا۔

نکاح نامے کی شق نمبر 21 میں لڑکے  کو  بتانا ہوتا ہے  کہ اس کی پہلے شادی تو نہیں ہوئی۔ اگر ایسا ہے تو کیا اس نے پہلی بیوی سے  دوسری شادی کی اجازت لی ہے۔ شق نمبر 20 میں لڑکی ماہانہ خرچ کی رقم لکھوا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں