13

اسلام آباد کے چڑیا گھر کے دو ریچھوں کو اردن منتقل کرنے کا فیصلہ

وائلڈ لائف بورڈ نے ببلو اور سوزی نامی ریچھوں کو بیرون ملک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا اور وائلڈ لائف بورڈ کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا۔ وکیل وائلڈ لائف بورڈ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دونوں ریچھوں کو اُردن منتقل کیا جائے گا۔

چڑیا گھر توہین عدالت کیس کے فیصلہ  میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انسانوں کی تفریح کیلئے جانوروں کو انکے قدرتی ماحول سے محروم کرنا غیر انسانی سلوک تھا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریچھوں کو ایک دہائی سے زائد عرصہ چڑیا گھر کے پنجروں میں قید رکھا گیا۔ چڑیا گھر میں کتنی ہی بہتر سہولیات کیوں نہ ہوں وہ جانوروں کیلئے حراستی کیمپ سے کم نہیں۔ قید کے دوران جانوروں کا غیرفطری رویہ ناقابل تصور تکلیف کا عکاس ہے۔

فیصلے میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ ہاتھی اور دو ریچھوں کی سینکچوریز میں منتقلی سے قابل تقلید مثال قائم ہوئی۔ کاون، سوزی اور ببلو ہمیشہ پاکستانی عوام کے سفیر رہیں گے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ جانور انسانیت کیلئے پاکستانیوں کے پیغام رساں رہیں گے کہ وہ پنجروں میں قید کرنے کیلئے نہیں۔ چیئرپرسن وائلڈ لائف بورڈ کے وکیل نے بتایا کہ بورڈ میٹنگ میں ریچھوں کی اردن منتقلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے دورانِ سماعت کہا کہ چڑیا گھر کہیں بھی ہو اس کی حیثیت حراستی کیمپ جیسی ہے۔  جانوروں کو کسی بھی دوسرے چِڑیا گھر منتقل نہ کیا جائے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانوروں کے ساتھ تصویریں آج کے اخبار میں شائع ہوئی ہیں۔ وزیراعظم  کی جانوروں کے ساتھ تصویریں عدالتی فیصلے کی تائید کرتی ہیں۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم میں جانوروں کیلئے ہمدردی ہے اور انہوں نے اس عدالت کے فیصلے کو سراہا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت تمام فریقین کے کنڈکٹ کا جائزہ لے رہی ہے، دو شیروں کے ساتھ جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے لیکن عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا، غلط تاثر دیا گیا کہ اس عدالت کا کوئی مفاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کا کوئی مفاد نہیں، مفاد صرف جانوروں کی بہتری ہے۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی کے وکیل کو عدالتی فیصلہ عدالت کے سامنے پڑھنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈیڑھ سال سے ان تمام جانوروں کی تکلیف کا ذمہ دار کون ہے، یہ چڑیا گھر ہماری 70 سالہ گورننس اور ہمارے رویوں کا عکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو شیروں کے ساتھ ہونے والا حادثہ شرمناک ہے، شیروں کے معاملے پر کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ وزارت اور بورڈ کے بیان کے بعد عدالت نے ریچھوں کو اردن منتقل کرنے کا فیصلہ دیا تھا،  عدالتی فیصلہ آنے کے بعد ریچھوں کو اردن منتقل کرنے کیلئے پرمٹ جاری کیا گیا، عدالت کو آگاہ کیے بغیر پھر اچانک سے پرمٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں