13

پاکستانی سائنسدانوں نے گھاس کی نئی قسم تیار کرلی

پاکستان ایگریکلچر اینڈ ریسرچ کونسل(پی اے آر سی) کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گنے سے لمبی یہ گھاس مویشیوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کا بہترین نعم البدل ہے۔ بلند قامت اور موٹی جسامت والی اس گھاس کو  کھانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

پی اے آر سی کے سائنسدانوں نے ہم نیوز سے ممباسہ گھاس کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کی افزائش کے لیے کسی بڑے سرمائے کی ضرورت ہے اور نہ مخصوص موسموں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

پی اے آر سی کے سائنس دانوں نے مزید بتایا کہ اس گھاس کو آسانی سے کاشت کر کے اس کی فصل سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

چیئرمین پاکستان ایگری کلچر اینڈ ریسرچ کونسل

پی اے آر سی کے مطابق اس گھاس پر موسمی اثرات اور مختلف حملوں سے بچاؤ کے لیے بھی تحقیق کی جا رہی ہے۔

چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹرمحمد عظیم خان نے بتایا کہ ممباسہ گھاس مویشیوں کی غذا کابہترین نعم البدل ہے۔ یہ غذائی اجزا کو پورا کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے جس سے پروٹین اور دیگر غذائی اجزا پر مشتمل صحت بخش مصنوعات کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔

پاکستانی سائنس دانوں کی جانب سے متعارف کرائی گئی اس تحقیق کو لائیو اسٹاک شعبے میں انقلاب قرار دیا جا رہا ہےجس سے کاشتکاروں کو بھی فائدہ ہوگا۔

چیئرمین پی اے آر سی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اکثر علاقوں میں بھوسہ، کھل اور موسمی گھاس کو جانوروں کے چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو یا تو مہنگی ہے اور یا صرف مخصوص موسم میں ہی دستیاب ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا ممباسہ گھاس پانچ سالوں میں ایک بار ہی لگائی جاتی ہے اور پورا سال چارے کے طور پر دستیاب رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں