16

انسانی صحت پر پلاسٹک کے مضر اثرات، سائنسی ثبوت مل گئے

سائنس دانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ پلاسٹک میں موجود 144 کیمیکل انسانی صحت کے لیے خطرناک ہوسکتے ہیں (فوٹو: فائل)

سائنس دانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ پلاسٹک میں موجود 144 کیمیکل انسانی صحت کے لیے خطرناک ہوسکتے ہیں (فوٹو: فائل)

سویڈن: ہم ایک عرصے سے پلاسٹک کے کوڑے سے پریشان ہیں جو ہر ماحول کے جان دار کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے لیکن اب ثبوت مل چکے ہیں کہ پلاسٹک انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوسکتا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک میں ’’اینڈو کرائن ڈسرپٹنگ کیمیکل‘‘ یا ’’ای ڈی سی‘‘ پائے جاتے ہیں۔ اینڈو کرائن غدود کے نظام کو متاثر کرنے سے کینسر، ذیابیطس، اعصابی اور بچوں کی رحمِ مادر میں خرابی جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں بھی پلاسٹک میں دیگر کئی زہریلے مرکبات دریافت ہوئے ہیں۔

عالمی اینڈو کرائن سوسائٹی اور آلودہ اجزا کو ختم کرنے میں مصروف عالمی نیٹ ورک (آئی پی ای این) نے مشترکہ طور پر یہ تحقیق کی ہے اور اسے دنیا بھر کے لیے خطرے کی ایک گھنٹی قرار دیا۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایک ہزار اقسام کے پلاسٹک میں ای ڈی سی موجود ہوتا ہے ان میں بسفینول اے، تھیلیٹس، پولی اور پر فلوروالکائل اجزا، ڈائی آکسنز، یووی اسٹیبلائزر اور کیڈمیئم سمیت دیگر مضر اجزا شامل ہیں۔ یہ پلاسٹک پیکنگ، ادویہ، کھلونوں، الیکٹرونکس، صنعتوں اور گاڑیوں سمیت ہر جگہ استعمال ہورہے ہیں۔

مجموعی طور پر پلاسٹک میں بہت سارے کیمیائی اجزا پائے جاتے ہیں اور ان میں 144 اجزا کو انسانی صحت کے لیے مضر قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح اب انسانی جسموں میں ای ڈی سی کی موجودگی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔

رپورٹ کے مرکزی مصنف جوڈی فلوز کہتے ہیں کہ اپنے گھروں میں پلاسٹک کے باریک ذرات ہمارے جسم میں جاکر ای ڈی سی کو بدن کے اندر اتارتے ہیں۔ اس ضمن میں بڑے پیمانے پر عمل اور تدابیر کی ضرورت ہے۔

سویڈن میں کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہر ڈاکٹر پاؤلینا دمدیپولوف نے کہا ہے کہ اگر حاملہ خواتین پلاسٹک سے متعارف ہوں تو پلاسٹک میں موجود ای ڈی سی بچے کے ڈی این اے کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں