19

سائنسدانوں نے انفرا ریڈ تھرمامیٹر کو غیر مؤثر قرار دیدیا

اسلام آباد: سائنسدانوں اور طبی ماہرین نے کہا ہے کہ عاللمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کے دور میں جسم کا درجہ حرارت چیک کرنے کے لیے استعمال ہونے والا انفرا ریڈ تھرمامیٹر مؤثر نہیں ہے۔

دنیا کی ایک چوتھائی آبادی 2022 تک کورونا ویکسین حاصل نہیں کرسکے گی

بھارتی خبر رساں ایجنسی نے جان ہاپکنز اسکول آف میڈیسن اور یونیورسٹی میری لینڈ اسکول آف میڈیسن میں کی جانے والی تحقیق کے حوالے سے بتایا ہے کہ کورونا وبا کے دوران بڑے پیمانے پر استعمال کیا جانے والا انفرا ریڈ تھرما میٹر اس ضمن میں مؤثر نہیں ہے اورنہ ہی یہ بہتر حکمت عملی ہے۔

اوپن فورم انفیکسیشن ڈیزیز میں شائع ہونے والے اداریے میں کہا گیا ہے کہ انفرا ریڈ تھرمامیٹر کے مؤثر ہونے کے حوالے سے اس وقت سوالات اٹھے جب امریکی اداروں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ تھرمامیٹر سے درجہ حرارت چیک کرنے کے علاوہ اپنے ڈاکٹر سے بھی رجوع کریں۔

کورونا: غریب ممالک کیلیے ویکسین کا حصول خواب رہے گا؟

خبر رساں ایجنسی کے مطابق ممتاز سائنسدان ولیم رائٹ کا کہنا ہے کہ امریکی ایئرپورٹس پر 46 ہزار افراد کا درجہ حرارت انفرا ریڈ تھرمامیٹر سے چیک کیا گیا تو ایک شخص کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔

امریکی محکمہ صحت کی نومبر 2020 کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جنوری سے ستمبر 2020 کے درمیانی عرصے میں انفرا ریڈ تھرمامیٹر سے سات لاکھ 66 ہزار مسافروں کا درجہ حرارت چیک کیا گیا تو 85 ہزار میں سے صرف ایک شخص کا بعد میں کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق ولیم رائٹ کی بات کی تصدیق امریکی محکمہ صحت کی رپورٹ سے بھی ہوتی ہے۔

نمائندہ ہم نیوز طارق ملک کورونا کے باعث انتقال کر گئے

امریکی سائنسدان ولیم رائٹ کا کہنا ہے کہ اس تھرما میٹر کے ذریعے اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے کہ کسی کو بخار ہے یا نہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں