22

صوبہ غزنی میں بم دھماکہ، 15 افراد جاں بحق، 20 زخمی

افغان وزارت داخلہ کے مطابق دھماکہ صوبہ غزنی کے ضلع گیلان میں عوامی اجتماع کے دوران کیا گیا۔

fوری طور پر کسی گروپ نے اس بم حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم افغان طالبان اس صوبے میں متحرک ہیں اور غزنی صوبے کے بہت سے علاقوں پر ان کا کنٹرول ہے۔

خیال رہے کہ 2 دسمبر کو افغان حکومت اور طالبان نے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے عبوری معاہدے کا اعلان کردیا تھا۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان 19 سال میں پہلے تحریری معاہدے میں فریقین نے امن مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

معاہدے میں مذاکرات کا ایجنڈہ اور فریم ورک طے ہوا تھا۔ معاہدے کے آئندہ مذاکرات میں جنگ بندی پر بات چیت بھی ایجنڈے میں شامل کی گئی تھی۔ طالبان اور افغان حکومت نے معاہدے کی تصدیق کردی تھی۔

یاد رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ویڈیو لنک کے ذریعے پہلا رابطہ مارچ میں ہوا تھا جس میں تشدد میں کمی لانے سمیت دیگر امور پر گفتگو کی گئی تھی۔

دونوں فریقین کے درمیان بات چیت ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوئی تھی جس میں  قطری اور امریکی حکام بھی شریک تھے۔

سفارتی حکام نے کہا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان باضابطہ ملاقات ہونی تھی لیکن کورونا کی وجہ سے ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کرنا پڑا۔

ذرائع کے مطابق ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے مذاکرات میں قیدیوں کی رہائی کے لیے ماحول تیار کرنے پر بھی اتفاق ہوا تھا ۔

یاد رہے کہ فروری میں طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ ہوا تھا جس کی شرائط میں شامل تھا کہ امریکی فوج 14 ماہ میں افغانستان سے مکمل انخلا کرے گی اور طالبان افغان حکومت سے مذاکرات کریں گے۔

معاہدے کے تحت امریکہ پہلے مرحلے میں ساڑھے چار ہزار فوجی افغانستان سے نکالے گا اور ساڑھے 8 ہزار فوجیوں کا انخلا معاہدے پر مرحلہ وار عملدرآمد سے مشروط ہے۔

معاہدے کے تحت افغان جیلوں سے 5 ہزار طالبان قیدی مرحلہ وار رہا کیے جائیں گے اور طالبان افغان حکومت کےساتھ مذاکرات کے پابند ہوں گے اور دیگر دہشت گردوں سےعملی طور پر لاتعلقی اختیار کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں