11

فضائی آلودگی آپ کے گردوں کے لیے بھی خطرناک ہے، تحقیق

فضائی آلودگی کے ذرّات میں 10 مائیکروگرام فی مکعب میٹر اضافے پر گردوں کی بیماری کا خطرہ بھی 130 فیصد بڑھ گیا۔ (فوٹو: فائل)

فضائی آلودگی کے ذرّات میں 10 مائیکروگرام فی مکعب میٹر اضافے پر گردوں کی بیماری کا خطرہ بھی 130 فیصد بڑھ گیا۔ (فوٹو: فائل)

بیجنگ: چینی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ فضائی آلودگی صرف پھیپھڑوں اور دل کےلیے ہی خطرناک نہیں بلکہ یہ گردوں کی دائمی بیماری کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔ یہ بات انہوں نے 47,000 سے زائد بالغ چینی شہریوں کی صحت سے متعلق دو سالہ اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کی ہے۔

واضح رہے کہ ہوا میں معلق آلودگی کے وہ باریک ذرّات جن کی جسامت 2.5 مائیکرومیٹر یا اس سے بھی کم ہوتی ہے، انہیں ’’پی ایم 2.5‘‘ (پارٹیکیولیٹ میٹر 2.5) کہا جاتا ہے جبکہ صحت کے تناظر میں بھی انہیں تشویشناک سمجھا جاتا ہے۔

یہ ذرّات اگر ایک طرف ہمارے پھیپھڑوں میں پہنچ کر سانس کی مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں تو دوسری جانب یہی ذرّات کئی طرح کے امراضِ قلب کو بھی جنم دے سکتے ہیں۔

یہ ذرّات اتنے خطرناک ہیں کہ عالمی ادارہ صحت نے ’’پی ایم 2.5‘‘ کے زیادہ سے زیادہ سالانہ اوسط 10 مائیکروگرام فی مکعب میٹر کو قابلِ قبول قرار دیا ہے جبکہ یومیہ اوسط کی بلند ترین قابلِ قبول حد 25 مائیکروگرام فی مکعب میٹر مقرر کی گئی ہے۔

بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی میں کیے گئے اس مطالعے میں ’’پی ایم 2.5‘‘ کی طویل مدتی فضائی موجودگی اور انسانی صحت میں تعلق کے علاوہ گردوں پر ان کے اثرات کا بطورِ خاص جائزہ لیا گیا ہے۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شہروں میں رہنے والے بالغ مردوں اور صحت مند بالغ افراد کے گردوں کو ’’پی ایم 2.5‘‘ کی طویل مدتی فضائی آلودگی سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

مطالعے کے شرکاء میں سے تقریباً 5100 افراد (10.8 فیصد) گردوں کی دائمی تکلیف میں مبتلا پائے گئے۔ علاوہ ازیں یہ بھی دریافت ہوا کہ ’’پی ایم 2.5‘‘ والی فضائی آلودگی کی مقدار صرف 10 مائیکروگرام فی مکعب میٹر بڑھنے پر بھی گردوں کی تکالیف کے خطرے میں 130 فیصد اضافہ ہوگیا۔

اس مطالعے کی بنیاد پر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسی سازوں کو فضائی آلودگی کے معاملے میں بہت زیادہ سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ صحت پر اس کے نت نئے اور پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اثرات سامنے آتے جارہے ہیں۔

اس تحقیق کی تفصیلات ’’جرنل آف دی امریکن سوسائٹی آف نیفرولوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں