18

بات چیت کا وقت ختم ہوچکا، اب وزیر اعظم نہیں بچ سکیں گے، بلاول

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت زمینی حقائق سے واقف ہی نہیں ہے۔ حکومت لوگوں کو ایک وقت کی روٹی نہیں دے رہی ہے۔ وزیراعظم کے پاس مسائل کا حل نہیں تو مستعفی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں مشکل حالات میں غریب کو تنہا نہیں چھوڑا۔ فوج ،پنشنرز ،غریب اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ حکومت کسانوں، غریبوں اور سرکاری ملازمین کے لیے کیا کررہی ہے؟ ۔

بلاول نے کہا کہ ہم لانگ مارچ پر ضرور نکلیں گے،ہم غریبوں کوساتھ لیکر جائیں گے۔عوامی طاقت سے اسلام آباد جاکر وزیراعظم سے استعفیٰ چھین لیں گے۔  استعفوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ بعد میں کریں گے، ابھی عمران خان کا استعفیٰ لینے نکلے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ڈائیلاگ تب ہو گا جب عمران خان وزیراعظم نہیں ہوں گے، لانگ مارچ تو ہونا ہی ہونا ہے، عوام کو ساتھ لے کر جائیں گے، اسلام آباد پہنچ کر استعفے چھین کر لیں گے، عوام اسلام آباد پہنچے تو یہ وزیراعظم نہیں بچ سکیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ  سے کسی حکومتی رکن کی بات چیت نہیں ہورہی ہے۔ بات چیت کا وقت ختم ہوچکا ہے ،اب وزیراعظم نہیں بچ سکیں گے۔ سینیٹ انتخابات میں خفیہ بیلٹ جمہوری حق ہے۔

بلاول نے کہا کہ کارکنوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ ہمارے کارکنوں نے مشکل صورتحال میں ہمارا ساتھ دیا۔ کسی بھی جماعت کی مضبوطی اس کے کارکن ہوتے ہیں۔ کارکنوں کے اہل خانہ میں بھی پیپلزپارٹی سے محبت پائی جاتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف سے ملاقات کا جو پروپیگنڈ ا چل رہا ہے وہ تاثرختم ہونا چاہیے۔ شہبازشریف سے میڈیا کے ذریعے تعزیت نہیں کرسکتا تھا،اس کے لیے ماحول چاہیے تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تمام 11جماعتیں متحد ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہم نے طے کیا ہے کہ حکومتی رویے کےخلاف ہم ڈٹ کرمقابلہ کریں گے۔
ہم عمران خان سے استعفیٰ لے کر رہیں گے،ہمارے نکلنے کا مقصد حکومت کو گھر بھیجنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں