13

14غذائیں جو سردیوں میں آپ کو بیماریوں سے محفوظ رکھیں گی

بیماری کے دوران ایسی غذاؤں سے پرہیز از حد ضروری ہے جو انسان میں قوت مدافعت کم کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ فوٹو: فائل

بیماری کے دوران ایسی غذاؤں سے پرہیز از حد ضروری ہے جو انسان میں قوت مدافعت کم کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ فوٹو: فائل

اِن دنوں بدلتے موسم کے باعث ہر دوسرا فرد نزلہ و زکام سے متاثر دکھائی دے رہا ہے۔ صحت پر مناسب دھیان نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت نزلے و زکام کو معمولی بیماری سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے اور اگر کچھ لوگ اس طرف دھیان بھی دیں تو ایک جوشاندہ پی لینے یا کوئی ایلوپیتھک گولی کھا لینے کو کافی خیال کرلیتے ہیں۔ حالانکہ یہ مرض اتنا غیر اہم بھی نہیں جتنا کہ ہم تصور کرتے ہیں اور اس کے علاج پر توجہ نہیں دیتے۔

طبی ماہرین کے نزدیک اگر نزلے کا بروقت اور مناسب سدباب نہ کیا جائے تو یہ کئی موذی اور تکلیف دہ عوارض کو بدنِ انسانی پر مسلط کرنے کا ذریعہ بن کر تن درستی اور صحت مندی کو کھا جاتا ہے لیکن اگر آپ سردیوں میں متوازن خوراک کا استعمال کریں تو آپ کا مدافعتی نظام مزید بہتر ہو سکتا ہے ، اور ایسی خوراک آپ کے موسم کی خوبصورتی کو فلو کی نظر نہیں لگنے دیں گے۔ ذیل میں آپ کو قدرتی طور پر قوت مدافعت بڑھانے والی غذائیں بتاتی ہوں یعنی ایسی غذائیں جو آپ کو بیماریوں سے محفوظ رکھیں گی۔

٭کیمومائل (بابونہ ) چائے

کیمومائل (بابونہ ) چائے کے استعمال کو جراثیم کش خصوصا اینٹی بیکٹیریل عمل کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ درحقیقت اس کا اصل اثر بہتر نیند کے ساتھ ہے جو کہ قوت مدافعت کو بڑھانے کے لئے اہم ہے۔ایک تحقیق کے مطابق زچگی کے بعد جن عورتوں نے اس چائے کا استعمال کیا ان کی نیند بہتر رہی بہ نسبت ان عورتوں کے جنھوں نے اس کو استعمال نہیں کیا تھا۔ اسے گرم اور ٹھنڈا دونوں طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

٭ ہلدی:کرکیومن ہلدی میں پایا جانے والا اہم جزو ہے،اسی کی وجہ سے اس کا رنگ شوخ ہے اور یہ سوجن کو روکنے والا مرکب ہے۔ یہ قوت مدافعت کو بڑھانے اور اینٹی باڈیز کے عمل کو تیز کرنے کا بھی کام کرتا ہے۔ کالی مرچ کے ساتھ اس کا استعمال اس کے فوائد کو دو چند کر دیتا ہے۔ بس ! تھوڑی سی کالی مرچ جوس، سوپ،یخنی یا پکی ہوئی سبزیوں پر چھڑکیں اور نوش فرمائیں۔

٭ خشک ٹارٹ چیریز

خشک ٹارٹ چیری میں کثیر مقدار میں اینٹی آکسیڈینٹ مواد موجود ہوتا ہے جو قوت مدافعت بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ، اس کا استعمال اوپری سانس کی نالی کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ یہ جواہرات اپنے فطری میلانٹن مواد کی وجہ سے صحت مند نیند کا بھی ضامن بنتے ہیں۔ یہ کلیدی حیثیت ہے، کیونکہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ مناسب یا اچھی نیند سے محروم ہوتے ہیں وہ عام طور پر سردی میں کسی وائرس کا شکار ہونے کے بعد بیمار ہوجاتے ہیں۔ خشک ٹارٹ چیریز کو توے پر سینک لیں یا نٹ بٹر میں فرائی کرلیں اور ایک چمچ کھالیں۔

٭ اخروٹ: سوزش سے بچاؤ کے لیے مفید ہونے والی چیزوں میں سے ایک ہونے کے علاوہ ، اخروٹ میں متعدد غذائی اجزا شامل ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام کی مدد کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں ، جس میں وٹامن ای اور بی 6 ، تانبا ، اور فولیٹ شامل ہیں۔ تحقیق کے مطابق اخروٹ بھی نفسیاتی دباؤ کو کم کرنے میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کا استعمال بہت اہم ہے کیونکہ اکثر اعصابی تناؤ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو نتیجتاً قوت مدافعت کو کمزور کرتا ہے۔ ناشتہ کے طور پر خشک ٹارٹ چیری کے ساتھ اخروٹ کا ایک ساتھ استعمال بہت مفید ہوگا۔ تازہ پھل یا پکی ہوئی سبزیوں پر اخروٹ چھوٹے چھوٹے کر کے سجائیں اور کھائیں۔

٭ ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل

ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کا حامل ہے جو آپ کے بیمار ہونے کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔ اس کے اینٹی آکسیڈینٹس کو ایسی سوزش جو آپ کی قوت مدافعت کو کمزور کرتی ہے، اس حالت سے بچانے میں ساز گار ثابت ہوتے ہیں۔ ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل ذیابیطس ، موٹاپا ، گٹھیا کی بیماری ، اور آنت کی سوزش جیسی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بہترین ہے۔ ہرے پتوں والی سبزیوں کو زیتون کے تیل میں ہلکا سا فرائی کریں یا ایسے ہی سلاد پر چھڑک کر استعمال کریں۔ یہ کاربوہائیڈریٹس کو ہضم کرنے میں ایسے مدد دیتا ہے جیسے آلو پر موجود جھلی کو ہضم کرنا آسان ہے۔

٭ سوپ یا شوربہ: کئی دہائیوں سے ، سردی سے متاثرہ افراد کو مرغی یا دیگر شوربے پر مبنی سوپ پلایا جاتاہے۔ اور اس کے فوائد سائنس سے بھی ثابت شدہ ہیں۔ سوپ کے استعمال سے تین گنا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ سوپ یا شوربے سے نکلنے والی بھاپ سینے کی بندش کو دور کرنے کے لئے ناک کے ذریعے بلغم کی نقل و حرکت کو تیز کرتی ہے۔ ایک صحت بخش سوپ سوزش کو کم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

یہ اہم ہے ، کیونکہ سردی پکڑنے سے آپ کی سانس کی نالی کے اوپری حصے میں سوزش پیدا ہوتی ہے، جس سے نزلہ اور زکام کی شکایت پیدا ہوتی ہے۔ نیز، سوپ یا شوربے میں موجود نمک آپ کے جسم میں پانی کی مقدار کو برقرار رکھنے کا سبب بنے گا ، جس کی وجہ سے پانی کی کمی پوری ہوتی ہے اور نتیجتاً سر درد اور خشک منہ جیسی علامات میں کمی آتی ہے۔ اگر آپ مرغی نہیں کھاتے ہیں تو سبزیوں کے شوربے کا انتخاب کریں۔ سبزیوں کے شوربے کو لہسن ، ادرک ، لال مرچ ، ہلدی اور کالی مرچ سے ذائقہ دار بنائیں۔

٭ لال مرچ: لال مرچ پاؤڈر سمیت مرچ مصالحے زکام اور سینے کی بندش میں سکون فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ کیپساسین ایک ایسا مرکب ہے جو مصالحہ دار مرچ کو اپنی حرارت دیتا ہے۔ اس کے استعمال سے بھی کھانسی سے آرام ملتا ہے۔ اپنی چائے ، سوپ ، یا شوربے میں ایک چٹکی کٹی ہوئی لال مرچ ڈالیں۔

٭ لہسن: عرصے دراز سے ، لہسن کو بیماریوں سے بچنے ، انفیکشن سے لڑنے ، اور زخموں کا علاج کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ research اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ لہسن میں ایسے قدرتی اجزا ہیں جس کی وجہ سے یہ مدافعت کو بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک بڑی تحقیق میں ، 146 رضاکاروں سے کہا گیا تھا کہ وہ سردی کے سارے موسم میں 12 ہفتوں کے لئے روزانہ پلیسبو یا لہسن کے سپلیمینٹس استعمال کریں۔ لہسن استعمال کرنے والے افراد کو پلیسبو استعمال کرنے والے افراد کے مقابلے میں کم سردی کا سامنا کرنا پڑا، اور اگر وہ انفیکشن میں مبتلا ہوگئے تو وہ تیزی سے صحت یاب ہوگئے۔ نئی تحقیق سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ پرانے لہسن کے عرق کا استعمال مدافعتی خلیوں کو مزید فعال بنا سکتا ہے۔

٭ خالص شہد: اس کے antimicrobial ہونے اور سوزش سے تحفظ کی خصوصیات کے علاوہ ، خالص شہد بچوں میں کھانسی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ منوکا شہد ، نیوزی لینڈ میں پایا جانے والا مختلف قسم کا شہد ہے جو ریاست ہائے متحدہ میں بھی دستیاب ہے ، خاص طور پر قوت مدافعت کو بڑھانے میں مدد کرسکتا ہے۔ اپنے گلے کو سکون بخشنے اور کھانسی کو ممکنہ طور پر راحت بخشنے کے لیے اس کا چمچ کھائیں، یا اسے کیمومائل چائے میں ڈال کر استعمال کریں۔

٭ ادرک: ادرک متلی میں فائدہ مند ہوتا ہے۔ اور خالص شہد کی طرح ادرک میں بھی antimicrobial اور سوزش سے تحفظ کی خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ بہترین فوائد کے لئے ، تازہ ادرک کا انتخاب کریں۔ اس کی قاشیں کاٹیں پیس کر چائے ، شوربے ، سمودی اور جوس میں شامل کریں ، یا تازہ پھلوں پر چھڑک کر استعمال کریں۔

٭ کیلے: کیلے نہ صرف سب سے بہترین خوراک ہیں جو زود ہضم بھی ہیں ، نظام انہضام کے لیے بہترین غذا بھی ہیں بلکہ یہ ان کا شمار ان غذاؤں میں ہوتا ہے جنھیں بیمار بھی آرام سے کھا لیتے ہیں حالانکہ بیماری کی وجہ سے ان کی بھوک کم ہوجاتی ہے۔

کیلے بلڈ شوگر میں بھی اضافے اور اہم غذائی اجزاء فراہم کرنے کا باعث بنتے ہیں جس سے قوت مدافعت میں بھی تقویت ملتی ہے۔ان غذائی اجزاء  میں وٹامن سی اور بی 6 ، تانبا ، اور فولیٹ شامل ہیں۔ کیلے پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں، جو پسینے میں ضائع ہو جانے والا ایک الیکٹرولائٹ ہے۔ ان کو ایسے ہی کھالیں یا مسل کر اس میں خالص شہد اور ادرک شامل کر لیں یا پھر اسے مکسر میں blend کر کے اس کی سمودی بنا لیں یا پھر اسے فریز کر کے آئس پاپ کے طور پر لطف اندوز ہوں۔

٭ لیموں: ایک چوتھائی کپ تازہ لیموں کے شربت سے روزانہ کے ہدف کا 30 فیصد وٹامن سی حاصل ہوتا ہے اور ایک پورے لیموں کا رس تقریبا 50 فیصد وٹامن سی فراہم کرتا ہے۔ قوت مدافعت کو تقویت بخشنے کے علاوہ ، یہ غذائی اجزاء  جو اینٹی آکسیڈینٹ کے طور پر بھی کام کرتا ہے ، ڈی این اے کی مرمت اور سیرٹونن کی افزائش کے لئے بھی ضروری ہے۔ نتیجتاً اس سے موڈ میں خوشگواری اور نیند میں بہتری آتی ہے۔ تازہ لیموں کے رس کو ٹھنڈے یا گرم پانی میں ملا کر استعمال کریں یا پھر گرم قہوے میں شامل کریں۔

٭ انار کا جوس: خالص انار کا جوس بھی اپنی antimicrobial اور سوزش سے تحفظ کی خصوصیات کی وجہ سے قوت مدوفعت کو بڑھانے میں مدگار ثابت ہوتا ہے۔ انار کے جوس میں پائے جانے والے فلاوونائڈ اینٹی آکسیڈنٹس میں بھی وائرس کا مقابلہ کرنے اور سردی میں 40 فیصد تک کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ انار کے جوس پیئیں، پانی یا کیمومائل چائے میں شامل کریں ، سمودی میں ملا دیں ، بی پی اے فری سانچوں میں منجمد کریں، یا پھر کیلے کو مسل کر اور ادرک کے ساتھ ملا کر پاپسولس بنائیں۔

٭ سبز سبزیاں: ہری سبزیاں سوزش سے بچنے والے اینٹی آکسیڈینٹس کے ساتھ ساتھ اہم غذائی اجزاء بھی فراہم کرتی ہیں جو مدافعتی نظام کے کام میں مدد فراہم کرتی ہیں ، جس میں وٹامن اے اور سی اور فولیٹ شامل ہیں۔ وہ بائیو ایکٹیو مرکبات بھی فراہم کرتے ہیں جو کیمیائی سگنل فراہم کرتے ہیں جس سے گٹ جو کہ 70 تا 80 فیصد مدافعتی خلیوں کا مقام ہے، اس میں قوت مدافعت بہتر ہوتا ہے۔ سبزیوں کو لہسن، ہلدی اور کالی مرچ کے ساتھ زیتون کے تیل میں سینک کر استعمال کریں، یا سوپ میں ان سبزوں کو شامل کریں۔ آپ پتوں والی سبزیوں جیسے کیل یا پالک کو blend کر کے سمودی بھی بنا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال بھی بہت اہم ہے تاکہ پسینے اور زکام کی صورت میں بہہ جانے والے سیال سے پیدا ہونے والی پانی کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔ مزید برآں، جب آپ بیمار ہوں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ غذائیں جو سوزش کو بڑھاتی ہوں یا آپ کی قوت مدافعت کو کمزور کرنے کا باعث بنیں ان سے لازماً پرہیز کریں۔

میری گزارش ہے کہ ریفائنڈ چینی، پراسیس کی گئی غذاؤں (خاص کر وہ جن میں غیر قدرتی اجزا شامل ہوں)، روایتی دودھ سے بنی اشیاء، گوشت، کافی اور الکوحل کے استعمال کو ترک کر دیں۔خوب سوئیں، آرام کا خیال رکھیں، خود کو بحال کرنے کے لیے بھرپور وقت لیں اور اس پر بالکل پریشان نہ ہوں۔ بیمار ہونے کے دوران دوسروں سے میل ملاپ ان سب کو نہ صرف متاثر کر سکتا ہے بلکہ آپ بھی بیماری کی طوالت کا شکار ہوسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں