25

قائد کی معدوم ہوتی روایت ’جناح کیپ‘

ان کے لباس کا ایک لازمی حصہ جناح کیپ تھی۔ موجودہ دور میں جناح کیپ کی مقبولیت تقریباً ختم ہوگئی ہے مگر راولپنڈی کے کاریگر محمد رفیق گزشتہ تین دہائیوں سے اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

فیشن کی دنیا میں جدت نے روایتی ملبوسات کو مشکل سے دوچار کیا تو قراقلی ٹوپی کی مقبولیت بھی شدید متاثر ہوئی۔ قراقلی کیپ جس کو پاکستان میں جناح کیپ کے نام سے جانا جاتا ہے شادی بیاہ کی تقریبات کا اہم جز تھی مگر اب اس کی مقبولیت تقریبا ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

راولپنڈی کے بینک روڈ صدر میں ایک دکان پربیٹھے کاریگر محمد رفیق پچھلے تیس سال سے دم توڑتی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جناح کیپ کے کاریگر کا کہنا تھا کہ قراقلی کیپ قراقول نسل کے بھیڑوں کی کھال سے بنائی جاتی ہے جو کہ چین، پاکستان اور افغانستان میں پائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چمڑے کے حصول کے بعد اسے گول لکڑی کے فرمے پہ چڑھا کر ٹوپی کی شکل میں ڈھالا جاتا اور گاہک کی پیمائش کے مطابق کاٹا جاتا ہے۔ ٹوپی کی کٹائی کے بعد اسے گاہک کے منتخب کردہ شکل اور ڈیزائن میں ہاتھ سے ٹانکا جاتا ہے۔

کاریگر محمد رفیق نے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں قراقلی ٹوپی بنانے کا فن اپنے والد سے سیکھا اور گزشتہ تین دہائیوں سے  وہ اسے اب تک زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب قراقلی ٹوپی کا رواج کم ہوگیا ہے پہلے شادی پر دولہا اور اس کے یار دوست بھی پہنتے تھے پر اب ایسا نہیں رہا۔

ایک ٹوپی کی قیمت اس وقت 2 ہزار سے لے کر 20 ہزار روپے تک ہے، اس  کو بنانے اور سوکھنے میں ہفتوں کا وقت درکار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں