15

نظرانداز کردہ غدود جو خواتین کے حمل کو محفوظ رکھتا ہے

انسانی جسم میں تھائمس نامی غدود ہر خواتین کے حمل کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے۔ فوٹو: فائل

انسانی جسم میں تھائمس نامی غدود ہر خواتین کے حمل کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے۔ فوٹو: فائل

برٹش کولمبیا، کینیڈا: جامعہ برٹش کولمبیا کے تحت بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے پہلی مرتبہ ایک غدود کی اہمیت بیان کی ہے جس سے ہم آگاہ تو تھے لیکن اسے نظرانداز کردیا گیا تھا۔

نیچر میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تھائمس نامی چھوٹا سا غدود خواتین کا امنیاتی نظام اور استحالہ (میٹابولک) کو قابو کرتا ہے۔ اس طرح ماں کے پیٹ میں بچے کی موجودگی اوراس کی حفاظت کا برسوں سے جاری معمہ حل ہوگیا ہے۔ اس بین الاقوامی تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر جوزف پیننگر ہیں۔ ان کی ٹیم نے حاملے کی صورت میں تھائمس سے ایک جنسی ہارمون کا اخراج نوٹ کیا ہے۔ تھائمس گلینڈ امنیاتی دفاعی نظام میں اہمیت رکھتا ہے اور ٹریگز نامی خاص خلیات خارج ہوتے ہیں جو ماں کے جسم میں کئی فعلیاتی تبدیلیاں بھی لاتا ہے۔

سائنسدانوں نے تھائمس کے اس عمل میں حصہ لینے والے ایک ریسپٹر RANK کا کردار بھی دیکھا ہے جو اس عمل میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس سے قبل حمل کے دوران رینک کا کردار سامنے نہیں آیا تھا۔ لیکن ماہرین نے رینک کے لیے چوہوں پر تجربات کئے۔

چوہوں کے تھائمس سے رینک کو نکال دیا گیا تو ان میں حمل کے دوران ٹریگس کی پیداوار کم ہوگئی اور چوہیوں کے حمل گرنے لگے۔ اس طرح معلوم ہوا کہ تھائمس کس طرح ماں کے حمل کی حفاظت کرتا ہے۔

دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا کہ تھائمس سے خارج ہونے والے ٹریگس خلیات خواتین کو زچگی کے دوران ذیابیطس کا شکار ہونے سے بھی بچاتے ہیں۔ دنیا بھر میں خواتین کی 15 فیصد تعداد بچے کی  پیدائش کے دوران ہی ذیابیطس کی مریض بن جاتی ہیں۔

ماہرین کی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن چوہیوں میں رینک کی کمی تھی ان کی بڑی تعداد ذیابیطس کی مریضہ بن گئی تھیں۔ اس لحاظ سے تھائمس حاملہ خواتین کا دوست ہے اور وہ ان کے بچے اور صحت کی حفاظت کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں