23

خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کی 26ویں برسی

محبتوں اور خوشبوؤں کو شعروں  میں سمونے والی پروین شاکر چوبیس نومبر  1952 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے بہت چھوٹی سی عمر میں شعر اور شاعری کا آغاز کیا۔

کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے

اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی

انہوں نے جامعہ کراچی سے تعلیم حاصل کی، پروین شاکر نے محبت، حسن اورعورت کو اپنا موضوع سخن بنایا۔ ان کی شاعری میں کہیں کرب اور کہیں شگفتگی جھلکتی نظرآتی ہے۔

شاعری کی دنیا میں انہیں احمد ندیم قاسمی جیسے ادیب کی سرپرستی حاصل رہی، ان کی معروف کتابوں میں خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہ تمام شامل ہیں۔

ان کی نثری تحریروں پرمبنی کتاب گوشہ چشم بھی مداحوں کو خوب بھائی۔

پروین شاکر نے اردو غزل کی رومانوی کیفیت کو نسوانی آہنگ سے نوازا اور ان کی پہلی ہی کتاب ’خوشبو‘ کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔

وہ اپنی ایک ذات میں کل کائنات تھا

دنیا کے ہر فریب سے ملوا دیا مجھے

انہوں نے الفاظ اور جذبات کو ایک انوکھے تعلق میں باندھ کر سادہ الفاظ میں انا اور انکار کو شعر کا روپ دیا۔ پروین شاکر کو حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس اور آدم جی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

پروین شاکر 26 دسمبر 1994 کو 42 سال کی عمر میں اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں جان کی بازی ہارگئیں مگر ان کے الفاظ کے انتخاب اور لہجے کی شگفتگی کا سحر آج بھی زندہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں