18

ایم ایل ون منصوبہ صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، وزیراعظم

وزیراعظم کی زیر صدارت سی پیک کے تحت ایم ایل ون منصوبے کے جائزہ اجلاس ہوا جس میں عمران خان منصوبے کے بارے میں اور موجودہ پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

منصوبے پر اب تک کی  پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے  وزیراعظم نے ایم ایل ون منصوبے کو پاک چین دوستی کی ایک شاندار مثال قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ منصوبےسے پاکستان میں بین الاقوامی معیار کا جدید کمیونیکیشن انفراسٹرکچر قائم ہوگا۔ منصوبے سے پاکستان کی برآمدات بروقت عالمی منڈیوں میں پہنچ سکیں گی اور قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبہ سی پیک کا سب سے اہم اور کلیدی اور سب سے خطیرلاگت کا منصوبہ ہے۔ منصوبے سے پاک چین تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوگا۔

وزیراعظم  کی زیر صدارت اجلاس کو وزیر ریلوے اعظم سواتی نے ریلوے کی طرف سے ایم ایل ون منصوبے کے انٹیگریشن پلان سے آگاہ کیا۔

اجلاس میں وزیر ریلوے کے علاقہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ، سیکریٹری ریلوے، اقتصادی امور،خزانہ، منصوبہ بندی ڈیویژن اور سینئر افسران  نے شرکت کی۔

واضع رہے کہ رواں سال اگست میں اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی نے ایم ایل ون منصوبے کی منظوری دے دی تھی۔ کراچی سے پشاور تک کے منصوبے پر 6 ارب ڈالر سے زائد کی رقم خرچ ہوگی۔

اس سے قبل 6 جون کو سنٹرل ڈویپلمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے ریلوے ٹریک ایم ایل ون پروجیکٹ منظور کرلیا تھا۔ ڈی ڈبلیو پی کی سفارشات قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) کو بھجوادی گئی تھیں.

خیال رہے کہ 18 اپریل 2019 کو پاکستان اور چین کے درمیان ریلوے کے معاہدے ایم ایل ون پر دستخط ہوئے تھے۔

وزیراعظم عمران خان اور چین کے وزیر اعظم لی کی چیانگ کی موجودگی میں وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اور چینی وزیر ریلوے نے ایم ایل ون معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے پر دستخط کے بعد گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ آج پاکستان میں ریلوے کی تاریخ کا بڑا دن ہے۔ ایم ایل ون منصوبے کے تحت پشاور سے کراچی تک ڈبل ٹریک بنایا جائے گا جب کہ نئے ٹریک پر ٹرین کی اسپیڈ کم از کم 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار ہو گی۔

انہوں ںے کہا تھا کہ 13 سال پہلے میں نے ہی اس منصوبے کی فیزیبلیٹی رپورٹ پر دستخط کیے تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں