20

بچوں میں مارشل آرٹس کا بڑھتا شوق

بچوں کا کہنا ہے کہ مارشل آرٹس سیلف ڈیفنس کے ساتھ فزیکل فٹنس میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ ایتھلیٹس نے حکومت سے گراؤنڈز فراہم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

مارشل آرٹس، کک باکسنگ، جوڈو یا پھر وینم صبح سویرے شدید ٹھنڈ میں لاہور کے بچے مختلف داؤ پیچ سیکھتے ہیں۔

روزانہ دو گھنٹے تک جاری رہنے والے سیشن میں فزیکل ٹریننگ کی جاتی ہے اور آپس میں بچوں کے کراٹے کے مختلف مقابلے بھی کروائے جاتے ہیں جس میں نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی حصہ لیتی ہیں۔

ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مارشل آرٹس سیکھتے بچوں کا کہنا ہے کہ نماز پڑھ کر یہاں آ کر ٹریننگ کرتے ہیں، یہ گیم سب کو کرنی چاہیے، لڑکیاں لڑکوں سے کم نہیں ہیں کوئی بھی گیم کرنی چاہیے‘۔

چھڑی کے ساتھ وہ وینم کرنے کے علاوہ سابق نیشنل چمپئن اور کوچ محمد اعجاز کی نگرانی میں موئے تھائی کی انوکھی ڈرلز بھی کی جاتی ہیں۔

محمد اعجاز نے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مارشل آرٹس کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

کوچ محمد اعجاز کا مزید کہنا تھا کہ یہ بچے اتنی مشکل صورتحال میں گیم کرتے ہیں، حکومت کو چاہیے ہمیں سپورٹ کریں اور گراونڈز مہیا کرے۔

مارشل آرٹس فائٹرز کی نظر میں صحت مند معاشرہ تبھی فروغ پاتا ہے جب کھیلوں کے میدان آباد اور اسپتال ویران ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں