14

چاکلیٹ – ایکسپریس اردو

چاکلیٹ چہرے کی جھریاں دور کرنے میں کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔

چاکلیٹ چہرے کی جھریاں دور کرنے میں کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔

دنیا بھر میں بچے اور بڑے چاکلیٹ بے حد شوق سے کھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین انسانی جسم پر چاکلیٹ کے منفی اور مثبت اثرات کو جاننے کے لیے اس پر تحقیقات کرتے رہتے ہیں۔

ماہرین کی ایک تحقیق کے مطابق چاکلیٹ چہرے کی جھریاں دور کرنے میں کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاکلیٹ کی مخصوص مقدار کھانے سے نہ صرف چہرے پر سورج کی تیز شعاعوں سے پڑنے والی جھریوں سے بچائو ممکن ہو سکتا ہے، بلکہ یہ جِلد کے کینسر سے بھی محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اس کے اس مثبت پہلو کو جاننے کے باوجود یہ بھی ضروری ہے کہ چاکلیٹ ایک حد سے زیادہ نہ کھائی جائے ورنہ آپ مٹاپے کا شکار بھی ہو سکتی ہیں اور اب تو ماہرین نے چاکلیٹ کے دیوانوں کے لیے ایک نئی خوش خبری بھی دی ہے۔ برطانوی طبی ماہرین نے ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ چاکلیٹ کے استعمال سے ذیابیطس کے خطرات کافی حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔

ایسٹ اینجلا یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چاکلیٹ میں شامل فلیونوئڈ نامی عنصر ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچائو میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے اور فلیونوئڈ کا زیادہ استعمال انسولین اور خون میں گلیکوز کی مقدار میں بہتری لاتا ہے۔ یہ عنصر چاکلیٹ، چائے، سیب اور گوبھی جیسی سبزیوں وغیرہ میں بھی کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ چاکلیٹ نہ صرف کھانے میں میٹھی ہوتی ہے، بلکہ یہ آپ کی صحت کے لیے بھی کافی فائدہ مند ہوتے ہیں۔ یہ آپ کا موڈ درست رکھتے ہیں اور ساتھ ہی آپ کو ذہنی تنائو سے بھی دور رکھتے ہیں۔ چاکلیٹ میں موجود میگنیشم ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور عارضۂ قلب سے بچاتا ہے۔ چاکلیٹ دماغ تک خون کے مواصلات کو بہتر کرتا ہے۔ چاکلیٹ کھانے سے بڑھتی عمر کے اثرات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

جدید طبی تحقیق کے مطابق ہفتے میں دو یا تین بار چاکلیٹ کھانے سے آپ کا بلڈ پریشر کم ہو جائے گا۔ ڈارک چاکلیٹ آپ کی شریانوں میں خون کی رفتار کو بہتر کرتی ہے، یہ اسٹروک یعنی فالج کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، جو کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

ماہرین نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر ڈارک چاکلیٹ میں پائے جانے والے ایک مادے کو گولیوں کی شکل میں ڈھالا جائے، تو یہ گولیاں دل کے دورے اور فالج کے حملے سے محفوظ رہنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی

ہیں۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے تیار کی جانے والی گولیوں میں چاکلیٹ کی اتنی مقدار ہوگی کہ مریض کو دن میں متعدد مرتبہ چاکلیٹ بار کھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بوسٹن یونیورسٹی میں

حفاظتی ادویات یا پریونیٹسیو میڈیسن کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر جوآن مینسن کے بقول ’ لوگ چاکلیٹ اس وجہ سے کھاتے ہیں کیوں کہ انہیں مزہ آتا ہے۔ اس وجہ سے نہیں کہ یہ ان کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس جائزے کا مقصد بھی یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر چاکلیٹ سے مٹھاس اور چکنائی نکال دی جائے، تو اس کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

فلاوانول ایک کیمیائی مادہ ہے جو کوکو یا ڈارک چاکلیٹ میں بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ماضی میں کیے جانے والے جائزوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فلاوانول فشار خون کو کنٹرول کرنے میں کولیسٹرول اور دل سے متعلق دیگر عوامل کو بہتر کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

ڈاکٹر جوآن مینسن نے مزید بتایا کہ اس اسٹڈی میں ان لوگوں کو شامل کیا جائے گا، جو پہلے ہی کسی جائزے کا حصہ ہوں گے۔ ان کے بقول اس طرح ایک تو اخراجات کم ہوں گے، جب کہ کام بھی تیزی سے ہوگا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اگر کوئی دل چسپی ظاہرکرے تو اضافی طور پر باہر سے بھی لوگوں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر جوآن مینسن آج کل وٹامن ڈی ٹیبلٹس پر بھی تحقیق کر رہی ہیں، جس میں 26 ہزار مرد اور خواتین حصہ لے رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ تین سال بعد آئے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ توانائی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اضافی طور پر وٹامن کھانے کا رواج عام ہے، تاہم اس سلسلے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے کیوں کہ بہت زیادہ گولیاںکھانے سے پرہیزکرنا چاہیے اور خاص طور پر ان گولیوں سے جن کے بارے میں پہلے سے کوئی جائزہ یا تحقیق موجود نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں