13

سال2020:ڈالرکی قیمت میں 9روپے75 پیسے کا اضافہ ریکارڈ

سال2020 معاشی اعتبارسےمشکل ترین سال رہا۔ کورونا وبا اور لاک ڈاؤن جیسےمسائل نےمعاشی سرگرمیوں کومحدود کردیا۔

درآمدی اشیا کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا اور ڈالرنےبھی تاریخ کی بلندی کوچھولیا۔

ڈالرنےملکی تاریخ میں سب سےاونچی اڑان  بھری اور دوہزار بیس  میں  ڈالرکی قیمت میں 9 روپے75 پیسوں کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ڈالر169 روپےتک ٹریڈ ہونےکےبعد اب کمی کی طرف گامزن  ہے۔

مرکزی رہنما آل پاکستان کرنسی ڈیلرزایسوسی ایشن ظفرپراچہ کا کہنا ہے کہ 169 روپےتک قیمت گئی۔۔ لیکن اب کم ہورہی ہے لگتا ہے 155 روپےتک ڈالرہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیلنس آف پیمنٹس کی وجہ سےکچھ پریشرنظرآسکتا ہے۔

سال2019 میں ڈالر مجموعی طور پر16روپے 10پیسے مہنگا ہوکر 155روپے کا ہوگیا تھا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کےتحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رقم وطن بھجوانےکی سہولت دی گئی جس سے130 ملین ڈالرکی رقم پاکستان بھیجی گئی جوڈالرسستا ہونےکی وجہ بنی۔

ٹریڈرزاسٹاک ایکسچینج محمد شعیب کا کہنا تھا کہ اگرڈالرنیچےآتا ہےتوہماری اکنامکل کنڈیشن مضبوط ہوتی ہےاورغیرملکی سرمایہ کارکو سرمایہ کاری کا موقع ملتا ہے۔

دوسری جانب ملکی زرمبادلہ کے ذخائربھی بلندترین سطح 20ارب 24کروڑ تک پہنچ گئے جس میں مرکزی بینک کے پاس 13ارب11کروڑڈالر کےذخائرموجودہیں۔

رواں سال 11 دسمبرکو ایک کروڑ 12 لاکھ ڈالر ترسیلات کا نیا ریکارڈ قائم ہوا۔

ایک روزمیں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے 15 کروڑ 46 لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔ گزشتہ سال موڈیز نے بھی پاکستان کا آؤٹ لک مثبت قراردیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں