17

احسان مانی کا محمد عامر اور سمیع اسلم کے کرکٹ چھوڑنے کے فیصلے پر افسوس

لاہور میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے احسان مانی کا کہنا تھا کہ دونوں کو فیصلہ لینے سے پہلے پی سی بی سے بات کرنی چاہیے تھی۔ محمد عامر نے ہر طرز کی کرکٹ کے لیے فٹنس برقرار رکھنے کے بجائے خود کو وائٹ بال کرکٹ تک محدود کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ  سمیع اسلم کو فواد عالم کی طرف دیکھنا چاہیے تھا اور کم بیک کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔

کا پی سی بی اور ٹیم کی سالانہ کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے احسان مانی کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز کی صحت کے حوالے سے یقیناً سال 2020 کرکٹ کے لیے ایک انتہائی مشکل سال تھا.

انہوں نے کہا کہ خوشی ہے کہ اس عرصے میں کرکٹ سرگرمیوں کی بحالی میں پی سی بی سب سے آگے رہا۔  اس دوران پی ایس ایل 2020 کو مکمل کیا، انگلینڈ کا دورہ کیا اور ڈومیسٹک سیزن کا اعلان کیا۔

احسان مانی نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ نہ صرف زمبابوے کی میزبانی کی بلکہ ہم اب تک اپنے ڈومیسٹک سیزن کے 186 میچز مکمل کر چکے ہیں۔ کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز کے تعاون کے بغیر ہمارے لیے یہ سب کرنا ناممکن تھا۔ کھلاڑیوں نے اپنے اہلخانہ اور دوستوں سے بڑھ کر کھیل اور پاکستان کو فوقیت دی۔

چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کے خلاف اولڈ ٹریفورڈ ٹیسٹ میں کامیابی اور نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کو ڈرا کرنا چاہیے تھا۔ 2020 میں پانچوں ٹیسٹ میچوں میں ہماری ٹیم کی کارکردگی میں نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی کارکردگی ایک مثبت پہلو بن کر سامنے آئی۔

احسان مانی کے مطابق سال 2021 میں ہمیں تقریباً 10 دو طرفہ سیریز اور ایک گلوبل ایونٹ میں شرکت کرنی ہے۔ ٹیم کی منیجمنٹ میں مصباح الحق، وقار یونس اور یونس خان جیسے شاندار اور تجربہ کار کھلاڑی شامل ہیں۔ موجودگی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہت مددگار ثابت ہوگی۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ کسی بھی کوچ کی طرح مصباح الحق بھی صرف دستیاب کھلاڑیوں کے ساتھ ہی کام کرسکتے ہیں۔ مصباح الحق کی معاونت کے لیے وقار یونس اور یونس خان بھی موجود ہیں۔ ثقلین مشتاق اور محمد یوسف کی این ایچ پی سی میں تقرری بھی انہیں مدد فراہم کررہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں